Taliban takeover in Afghanistan hits trade with India

کولکاتا: افغانستان کی صورتحال کا اثر مغربی بنگال پر بھی پڑ رہا ہے۔ جہاں رنگین پگڑیاں تیار کی جاتی تھیں اور پھر انہیں افغانستان برآمدکیا جاتاتھا۔ لیکن اب جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق طالبان کے مکمل کنڑول کے باعث مغربی بنگال کے ضلع بنکوڑہ کے ایک قصبے میںپگڑی بنانے کا کاروبار کرنے والے کچھ لوگوںکو نقصان پہنچا ہے ، جو پچھلے 40 سالوں سے کابلی والوں کو رنگین پگڑیاں سپلائی کر رہے ہیںمقامی بنکروں کی تنظیم کے ترجمان ، شیامپد دتہ نے اتوار کو کہا کہ افغان بحران کے شروع ہونے کے بعد سے سونا مکھی قصبے میں تقریباً 150 پگڑی بنانے والوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ، کیونکہ ان کی پگڑیوں کو افغانستان بھیجنے والی سورت کی ایک ایجنسی نے یہ کام روک دیا ہے۔

دتہ نے کہا کہ موجودہ صورتحال اور لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے کاروبار کو جھٹکا لگا ہے۔ کابل سے تقریباً 3000 تین ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر ریشم کی بنائی کے لیے مشہور سونامکھی تقریباًچار دہائی قبل ا سوقت پگڑی بنانے کا مرکز بن گیا جب کچھ پشتون لوگ مصالحے ، خشک میوہ جات وغیرہ بیچنے کے لئے کرشنا بازار آئے۔ یہاں انہیں کابلی والا کہا جاتا ہے۔اس بازار کے پرانے باشندوں نے بتایا کہ مقامی بنکروںکے ساتھ ان کا میل جول بڑھنے کے بعد پشتونوں نے مقامی بنکروں کے ساتھ پگڑیاں بنانا شروع کر دیں۔

جلد ہی یہ کاروبار پھلنے پھولنے لگا اور تقریباً 150 بنائی والے اس کام میں لگے ہوئے تھے اور یہ کاروبار کئی نسلوں تک جاری رہا۔ حالات کے اثر کے بارے میں پوچھے جانے پر دتہ نے کہا کہ پگڑی بنانے پر 350 روپے سے لے کر 3500 روپے تک کی لاگت لگتی ہے ، اس لیے بنکروں بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔