Afghan refugees unaware about what policy Taliban will addopt

کابل: (اے یو ایس ) پاکستان کی افغانستان سے متصل سرحد چمن سے بڑی تعداد میں پناہ گزین پاکستان آ رہے ہیں۔چمن سرحد پر خواتین، بچوں اور مریضوں پر مشتمل پناہ گزین کے ٹولے جوق در جوق چمن کے راستے پاکستان آ رہے ہیں اور مختلف شہروں کی جانب سفر کر رہے ہیں کیونکہ سرحد پر ان کے لیے فی الحال کوئی کیمپ یا انتظامات نہیں ہیں۔واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو سرحدی علاقہ ہے اس کا طویل ترین حصہ بلوچستان میں ہے۔اس سرحد پر بلوچستان کے چھ اضلاع واقع ہیں، جن میںژوب، قلعہ سیف اللہ، پشین، قلعہ عبد اللہ، چمن، نوشکی اور چاغی شامل ہیں تاہم یہاں سے پیدل اور گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے سب سے بڑی گزرگاہ چمن ہے۔

چمن سے متصل افغان علاقے سپین بولدک پر جولائی کے وسط میں طالبان کے قبضے کے بعد دو مرتبہ چمن سے لوگوں اور گاڑیوں کی آمدورفت بند ہوئی تھی لیکن 12 اگست کے بعد سے یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا۔کابل، قندھار اور غزنی سمیت افغانستان کے مختلف علاقوں سے آنے والے پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ ویسے تو ان کے علاقوں میں ابھی تک صورتحال پرامن ہے اور کوئی لڑائی نہیں ہو رہی لیکن لوگوں میں بہت زیادہ خوف ہے اور ابھی اس بارے میں یقین نہیں کہ طالبان کی پالیسی کیا ہو گی۔کچھ لوگ افغانستان کی خراب معاشی صورتحال کی وجہ سے بھی پاکستان آ رہے ہیں کیونکہ ان کے علاوں میں کاروبار ٹھپ ہو چکے ہیں۔طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان میں صحافیوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ہے جس پر بین الاقوامی صحافتی تنظیموں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایک تازہ واقعے میں نجی افغان چینل طلوع نیوز کے دو صحافیوں کو اپنے کام کے دورانمارا پیٹا گیا اور ان کے کیمرے اور دیگر آلات توڑ دیے گئے۔طلوع کے رپورٹر زیار یاد نے کے مطابق طالبان نے انھیں اور ان کے کیمرہ مین کو کابل کے شیرنو علاقے میں تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کے موبائل فون اور کیمرے ضبط کر لیے گئے۔زیار یاد کا کہنا تھا انھوں نے طالبان کو اپنے پریس کارڈ بھی دکھائے لیکن انھوں نے پروا نہیں کی۔طلوع نیوز سے بات کرتے ہوئے طالبان کے ثقافتی کمیشن کے نائب احمداللہ واسق نے واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔اس سے قبل صحافیوں کے تحفظ کی بین الاقوامی کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے ایک بیان میں کہا کہ اگست 17 اور 20 اگست کو طالبان نے دو صحافیوں کے گھروں پر چھاپے مارے جبکہ گذشتہ 20 دنوں میں کم از کم چار دیگر صحافیوں کے گھروں کی تلاشی لی جا چکی ہے۔