Karzai, Abdullah house-arrested by Taliban in Kabul

کابل: افغانستان کی خامہ پریس خبر ساں ایجنسی کے مطابق ذرائع نے اس امر کی تصدیق کر دی ہے کہ سابق صدر حامد کزئی اور کونسل اعلیٰ برائے قومی مفاہمت کے سربراہ عبد اللہ عبداللہ کو طالبان نے خانہ نظر بند کر دیا ہے اور انہیں گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔ ذرائع نے یہ بھی کہا کہ ان دونوں سے کہہ دیا گیا ہے کہ وہ لوگوں سے صرف اپنے اپنے گھر پر ہی مل سکتے ہیں۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ فی الحال حامد کرزئی عبداللہ عبداللہ کے گھر میں رہائش پذیر ہیں۔ جب سے سابق صدر اشرف غنی ملک سے فرار ہوئے ہیں حامد کرزئی، عبد اللہ عبد اللہ اور گلبدین حکمت یار ہی واحد سیاسی رہنما بچے ہیں جو طالبان قیادت اور قبائلی رہنماؤں سے تیزی سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ ان تینوں نے طالبان کے منصوبے کے تحت ایک12رکنی بڑی کونسل بھی تشکیل دی ہے جو آئندہ حکومت کی قیادت کرے گی۔

ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ آیا ان تینوں کو بھی آئندہ حکومت میں عمل دخل کا اختیار حاصل ہوگا ۔طالبان ابھی بھی مستقبل کی حکومت تشکیل دینے کے بارے میں تیزی سے تبادلہ خیال کر رہے ہیں لیکن وہ یہ وعدہ بھی کرتے رہے ہیں کہ ملک میں مخلوط حکومت تشکیل دیں گے۔ افغانستان اسلامی امارات کے قائم مقام وزیر ثقافت و اطلاعات اور ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میںایک پریس کانفرنس میں کہا کہ مذہبی علماءاور عمائدین حکومت کی قیادت کریں گے۔