Over 85 People Killed 150 injured in Kabul airport blasts

کابل: برطانیہ اور امریکہ کی جانب سے کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایرپورٹ پر ممکنہ دہشت گردانہ حملہ کے انتباہ کو 24گھنٹے بھی نہیں گذرے تھے کہ دو خود کش بمباروں اور بندوق بردار وں نے ہوائی اڈے پر جمع افغانوں کے ہجوم پر ہلاکت خیز حملہ کر دیا جس میں کم از کم85افراد ہلاک ہو گئے ۔ ہلاک شدگان میں73 افغان شہری اور12امریکی فوجی ہلاک ہو گئے۔ ان خود کش حملوں میں تقریبا ً150 دیگر زخمی بھی ہوئے ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے اس وقت ہوئے جب کابل ایئرپورٹ کے ارد گرد ہزاروں لوگ جمع تھے ۔ دھماکوں سے قبل کابل میں امریکی سفارت خانے نے شہریوں سے کہا تھا کہ وہ داعش کے ممکنہ خطرات کی وجہ سے کابل ائیرپورٹ پر سفر نہ کریں۔ امریکہ نے اپنے شہریوں کو انتباہ دیتے ہوئے انہیں ہوائی اڈے کے گیٹ کے باہر سکیورٹی خطرات کی وجہ سے دور رہنے کا مشورہ دیا گیا تھا ۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ دھماکے امریکی کنٹرول والے علاقوں میں ہوئے ہیں۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل فرینک مکین زی نے پنٹاگون رپورٹروں کے استفسار پر بتایا کہ ہم اس بزدلانہ حملے کی سازش رچنے والوں ، اسے کرانے والوں اور اسے انجام دینے والوں کا سراغ لگانے کے لیے دل و جان سے لگے ہوئے ہیں اور اس کی تہہ تک پہنچنے کے لیے کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیے رکھیں گے۔

ہم ان حملہ آوروں کی تلاش میں رات دن ایک کردیں گے۔مکین زی کی پریس کانفرنس کے فوراً بعد دولت اسلامیہ فی العراق و الشام (داعش) نے اپنے عمق نیوز چینل پر ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔مکین زی نے کہا کہ یہ دہشت گردانہ حملے امریکہ کو افغانستان سے امریکیوں اور دیگر کو نکالنے سے نہیں روک پائیں گے اور پروازیں کابل ہوائی اڈے سے جاری رہیں گی۔