Afghanistan to be free of explosions once US troops leave: Taliban

کابل: نگراں وزیر ثقافت و اطلاعات اور طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ غیر ملکی افواج کے افغانستان سے نکلتے ہی ملک دھماکوں اور حملوں سے پاک ہو جائے گا۔ ۔انہوں نے کہا کہ حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جو دو دھماکے ہوئے اورجن میں 250 سے زائد افراد ہلاک ہوئے وہ طالبان کے زیر کنٹرول نہیں امریکی فوجیوں کے کنٹرول والے علاقے میں ہوئے ۔

ذبیح اللہ مجاہد نے ریڈیو فری افغانستان کے ساتھ اپنے انٹرویو میں کہا کہ غیر ملکی افواج کی موجودگی اس قسم کے حملوں اور دھماکوں کی دعوت دیتی ہے۔ اس روشنی میں انہوں نے امریکہ سے کہا کہ جتنا جلد ہو سکے وہ اپنا بوریہ بسترا سمیٹ کر افغانستان سے چلتا بنے ۔ایک بار جب غیر ملکی افواج افغانستان سے نکل جائیں گی ، ہم یقین دلاتے ہیں کہ وہاں کوئی حملہ ہوگا اور نہ ہی کسی گروہ کو اس طرح کے حملے کرنے کی اجازت دی جائے گی اور نہ ہی افغانستان کی سرزمین کو کسی ایسی کارروائی کے لیے استعمال نہیں کرنے دیا جائے گا جس سے دوسرے ممالک کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوجائے۔

مجاہد نے مزید کہا کہحامد کرزئی انٹرنیشنل ایر پورٹ( ایچ کے آئی اے )میں صورتحال بے قابو ہے اور ان کے جنگجو اتنے تربیت یافتہ نہیں ہیں کہ ایسے ہجوم کو کنٹرول کر سکتے ہوں۔ مجاہد نے لوگوں سے کہا کہ وہ ائیر پورٹ پر نہ بھیڑیں اور وعدہ کیا کہ ایک بار جب ہوائی اڈے میں حالات معمول پر آ جائیں گے تو کسی کو ملک چھوڑنے سے نہیں روکا جائے گا۔مجاہد نے داعش کے بارے میں جس نے کرزئی ہواائی اڈے پر ہونے والے دو دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی، کہا کہ یہ وہ گروہ نہیں ہے جو شام اور عراق میں سرگرم ہے اور انہوں نے مزید کہا ، انہیں یقین ہے کہ جب وہ افغانستان میںکوئی غیر ملکی فوجی نہیں دیکھیں گے تو وہ حملے اور دھماکے بھی نہیں کریں گے۔