Taliban will continue to support Afghanistan cricket, no worries for star cricketers: ACB CEO Shinwari

کابل:افغانستان کرکٹ بورڈ کے سی ای او حامد شنواری نے کہا ہے کہ طالان مردوں کی کرکٹ کھ ہر گز بھی خلاف نہیں ہیں او وہ افغانستان میں کرکٹ کے کھیل کے فرو غ میں معاونت کریں گے۔ اور اسٹار کھلاڑیوں کو سنیئر قومی ٹیم میں کھیل کر ملک کی نمائندگی کرنے میں رکاوٹ یا کوئی پریشانی نہیں آئے گی۔ قبل ازیں گذشتہ ہفتہ ہی اس جانب پیشرفت کرتے ہوئے عزیزاللہ فضلی کو ایک بار پھر افغانستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین نامزد کردیا گیا تھا۔ طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کے بعد ان کے اس اقدام کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ فضلی نے 2019میں انگلینڈ ورلڈ کپ میں افغانستان کے آخری نمبر پر آنے کے بعد اپنا عہدہ چھوڑ دیا تھا۔ اس کے بعد سے فرحان یوسف زئی اے سی بی کا کام کاج دیکھ رہے تھے۔اے سی بی کی طرف سے اتوار کے روز ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے،”وہ (عزیزا للہ فضلی) اے سی بی کی قیادت کریں گے اور آنے والے مقابلوں کا لائحہ عمل تیار کریں گے۔”افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنے کے فوراً بعد طالبان نے کہا تھا کہ وہ ملک میں مردوں کے کرکٹ میں کسی طرح کی مداخلت نہیں کریں گے۔ خواتین کے کرکٹ کے سلسلے میں تاہم ابھی صورت حال واضح نہیں ہے۔

حالیہ برسوں میں کرکٹ افغانستان کے سب سے بڑے اسپورٹس کے طور پر سامنے آیا ہے۔افغانستان کے مردوں کی کرکٹ ٹیم کو اگلے ماہ سری لنکا میں پاکستان کے خلاف تین ایک رو زہ میچوں کی سریز کھیلنا ہے۔ لیکن کابل ایئر پورٹ سے فی الحال کمرشیل پروازیں بحال نہیں ہوسکی ہیں۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق افغان کرکٹ ٹیم سڑک کے راستے پاکستان جاسکتی ہے اور پھر وہاں سے بذریعہ طیارہ کولمبو جائے گی۔ افغانستان کے کرکٹ حکام نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ سری لنکا کی سریز حسب پروگرام منعقد ہوگی۔اس سے قبل گزشتہ ہفتے جب طالبان نے کابل پر کنٹرول حاصل کرلیا تو افغانستان اور بین الاقوامی برادری میں خوف کی لہر پیدا ہوگئی تھی کیونکہ 1996سے 2001کے درمیان ان کے دور حکومت کی تکلیف دہ یادیں لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔ اس وقت انہوں نے تفریح کے تمام ذرائع بشمو ل اسپورٹس پر پابندی لگادی تھی۔ بعض اسٹیڈیم لوگوں کو سزائیں دینے کے لیے استعمال کیے گئے تھے۔طالبان نے جن کھیلوں کی اجازت دی تھی ان پربھی سخت نگاہ رکھی جاتی تھی اور صرف مرد ہی انہیں کھیل اور دیکھ سکتے تھے۔البتہ کرکٹ کے سلسلے میں ان کا رویہ ذرا مختلف تھااور طالبان جنگجو بھی کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔ اس وجہ سے بہت سے کرکٹ کھلاڑیوں کو اس پر کسی طرح کی پابندی عائد نہیں کیے جانے کی امید تھی۔

سابق قومی کرکٹ کپتان محمد نبی نے سقوط کابل سے چند دنوں قبل ایک ٹوئٹ کرکے کہا تھا،”میں عالمی رہنماوں سے اپیل کرتا ہوں کہ افغانستان کو افراتفری کے ماحول میں پھنسنے نہ دیں۔ ہمیں آپ سب کی مدد کی ضرورت ہے۔”سن دو ہزار کی دہائی سے قبل تک افغانستان میں شاید ہی کوئی کرکٹ سے واقف تھا۔ تاہم افغان پناہ گزینوں کوپاکستان میں قیام کے دوران کرکٹ سے دلچسپی پیدا ہوئی اور جب وہ اپنے وطن واپس لوٹے تو اسے وہاں لے کر گئے اور پروان چڑھایا۔افغانستان کی قومی کرکٹ ٹیم کو بہت جلد عروج حاصل ہوگیا۔اوراسے سن 2017میں ٹسٹ کھیلنے والے ملک کا درجہ بھی مل گیا۔اس وقت وہ ایک روزہ مقابلوں اور ٹی ٹوینٹی فارمیٹ کھیلنے والے دنیا کے دس چوٹی کے ملکوں میں سے ایک ہے۔گزشتہ بیس برس کے دوران جنگ زدہ ملک افغانستان میں کرکٹ کا کھیل ایک طاقت ور قومی علامت کے طور پر بھی ابھر کر سامنے آیا ہے۔افغانستان کے سابق کرکٹ کھلاڑی نعیم الحق کا کہنا ہے،”یہ افغانستان کے عوام کے لیے صرف ایک کھیل نہیں ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ بہت کچھ ہے۔”