Kazakhstan arms depot blast death toll rises to 15

نور سلطان: قازقستان کے جنوبی زمبیل علاقے میں بارود کے ایک گودام میں تسلسل سے ہونے والے دھماکوں میں ہلاک شدگان کی تعداد بڑھ کر15 ہو گئی ہے۔قازق ایمرجنسی وزارت نے کہا کہ آگ اور دھماکوں سے زمیں بوس ہوجانے والی عمارت کے ملبہ کے نیچے سے دوشنبہ کو مزید لاشیں ملنے کے بعد اس دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد15ہو گئی ہے اور ایک ہنوز لاپتہ ہے۔

وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان کہا گیا ہے کہ جمعرات کو فوج کے جس گودام میں یہ دھماکے ہوئے ا وہاں گولہ بارود اور انجینئرنگ کا سامان رکھا گیا تھا۔ بیان میں کہا گیا کہاس عمارت میں ایک کے بعد ایک لگاتار 10 دھماکے ہوئے جن میں 15 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ 98 دیگر زخمی ہو گئے جو ابھی تک ہسپتال میں زیر علاج ہیں ان میں سے نصف تعدادایمرجنسی وزارت کے ان ملازمین کی ہے جو آگ پر قابو پانے کی جدو جہد میں لگے تھے۔

وزیر دفاع نورا لعین ارمیک بائیف نے بتایا کہ فائر بریگیڈ کے سربراہ ایکرن نادربیکوف بھی مرنے والوں میں شامل ہیں۔ واقعے کے بعد قریبی بستیوں کے مکینوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ ارمیک بائیف نے کہا کہ ہم دھماکے کی مختلف وجوہات کو مسترد نہیں کر رہے ہیں۔ یہ سکیورٹی سسٹم میں ناکامی یا اچانک فائرنگ یا کیمیائی رد عمل ہو سکتا ہے۔ آتش زنی یا تخریب کاری کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا ۔