Taliban welcomes U.S. withdrawal from Afghanistan

کابل: طالبان نے افغانستان سے امریکہ کے مکمل فوجی انخلا کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح اب ہمارا ملک پوری طرح سے آزاد اور خود مختار ہو گیا ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پر ٹوئیٹر کے توسط سے کہا کہ دوشنبہ اور منگل کی درمیانی شب میں رہے سہے امریکی فوجی بھی کابل ہوائی اڈے سے واپس اپنے وطن پرواز کر گئے۔مجاہد نے افغانستان سے امریکی فوجیوں کی روانگی کے فوراً بعد یہ ٹوئیٹ کیا۔

باقی ماندہ امریکی فوجیوں کو لے کر جانے والے آخری طیار ے نے 30اگست بروز پیر فوجی و غیر فوجی عملہ کے ساتھ پرواز کر کے31اگست سے پہلے افغانستان چھوڑ جانے کے امریکی صدر جو بائیڈن کے وعدے کو پور ا کر دیا۔منگل کو رات ایک بجے جیسے ہی مجاہد نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کیا طالبان کے جنگجوو¿ں نے افغان دارالخلافہ کابل میں بندوقوں کا رخ آسمان کی جانب کر کے اس کے دہانے کھول دیے اور پورا شہر گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونج اٹھا اور کابل کے رہائشیوں میں خوف و دہشت کی لہر دوڑ پڑی کیونکہ وہ سمجھے کہ کابل پر زبردست حملہ ہو گیا ہے ۔

طالبان تقریباً نصف گھنٹے تک ہوائی فائر کرتے رہے۔لیکن جب سوشل میڈیاپر مجاہد نے پھر لکھا کہ یہ فائرنگ امریکی فوجیوں کے ملک چھوڑنے کی خوشی میں کی جانے والی فائرنگ ہے۔ کابل والے چنداں پریشان و خوفزدہ نہ ہوں۔ ہم اس فائرنگ کو بند کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔اگرچہ پینٹا گون کے چیف ترجمان جان کربی نے چار روز قبل ہی کہا تھاکہ امریکیوں اور دیگر کو کابل سے نکالنے کے لیے امریکی فوجی کارروائیاں صدر جو بائیڈن کی 31 اگست کی آخری تاریخ تک جاری رہیں گی۔ لیکن ایک روز قبل ہی اس کی باقی ماندہ فوجیں بھی وطن واپس پرواز کر گئیں۔