Three over ground LeT workers held for grenade attack on CRPF

سری نگر: جموں کشمیر پولیس نے شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ میں قریب دو ہفتے قبل ایک سی آر پی ایف کیمپ پر ہونے والے گرینیڈ حملے میں مبینہ طور پر ملوث لشکر طیبہ کے تین انتہاپسند وں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ایک پولیس عہدیدار نے جمعہ کے روز بتایا کہ ضلع کپوارہ کے لنگیٹ علاقے میں 16 اگست کو ایک سی آر پی ایف کیمپ پر ہونے والے گرینیڈ حملے کی تحقیقات کے دوران پولیس کو اس حملے میں ملوث ایک ملزم کے بارے میں ایک اطلاع موصول ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ موصولہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس کے سپیشل آپریشنز گروپ اور فوج کے 30 آر آر کی ایک مشترکہ ٹیم نے گذشتہ شام لنگیٹ کے شتپور محلے کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران اشفاق احمد ڈار نامی ایک جنگجو اعانت کار کو کچھ اسلحہ و گولہ بارود سمیت گرفتار کیا گیا۔موصوف پولیس عہدیدار نے بتایا کہ مزید تفتیش پر اشفاق احمد ڈار نے حملے میں مزید دو افراد ملوث ہونے کا انکشاف کیا۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن ٹیم نے فوری طور پر دونوں کی رہائش گاہوں پر چھاپہ مار کر ان کو اسلحہ و گولہ بارود سمیت گرفتار کیا۔ان دو گرفتار شدگان کی شناخت جمشید احمد شاہ اور جاوید احمد خان کے بطور ہوئی ہے۔پولیس عہدیدار نے بتایا کہ تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ یہ تینوں لشکر طیبہ سے وابستہ تھے اور انہوں نے لنگیٹ میں ہونے والے گرینیڈ حملے میں ملوث ہونے کا اقرار بھی کیا۔انہوں نے کہا کہ تینوں گرفتار شدگان کے خلاف پولیس اسٹیشن ہند وارہ میں ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے اور مزید تحقیقات کی جا رہی ہے۔