US withdraws from Afghanistan bringing an end to 20-year war

کابل:دوشنبہ اور منگل کی درمیانی شب میں ایک بجے امریکہ کے افغانستان میں باقیماندہ فوجی و غیر فوجی عملہ کی کابل سے وطن واپسی کے لیے پرواز کر جانے کے ساتھ ہی طویل ترین جنگ کا خاتمہ ہو گیا۔ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کا کہنا ہے کہ طویل ترین امریکی جنگ کا خاتمہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کے ساتھ ساتھ غیر فوجی بشمول سفارتی عملے کا بھی انخلا عمل میں آیا ہے۔آسٹن نے کہا کہ اس آپریشن کا اختتام امریکہ کی طویل ترین جنگ کا خاتمہ بھی ہے۔ ہم نے افغانستان کی جنگ میں 2 ہزار 461 فوجیوں کو کھو دیا اور ہمارے ہزاروں دیگر فوجی زخمی ہوئے۔ ادھر طالبان کا کہنا ہے کہ کابل سے امریکی فوجیوں کے مکمل انخلا سے افغانستان نے مکمل آزادی حاصل کرلی ہے۔

طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا کہ آج رات ایک بجے آخری امریکی فوجی بھی افغانستان سے چلے گئے اور ہمارے وطن عزیز نے مکمل آزادی حاصل کرلی۔ادھر امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلینکین نے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجی موجودگی کے خاتمے کے ساتھ ہی افغانستان میں امریکی سفارتی سرگرمیاں بھی معطل ہو گئی ہیں۔تاہم ، بلینکین نے مزید کہا کہ فوجی موجودگی کا خاتمہ افغانستان کے ساتھ امریکی تعلقات کا ایک نیا باب ہے اور یہ کہ امریکہ نئی مصروفیات میں سفارت کاری کو واحد متبادل کے طور پر استعمال کرے گا۔بلینکن کے مطابق امریکہ فوجی انخلا کے بعد افغانستان کے ساتھ کام جاری رکھے گا۔بلینکن نے کہا کہ آج تک ہم نے کابل میں اپنی سفارتی موجودگی معطل کر دی ہے اور اپنا سفارتی دفتر قطر منتقل کر دیا ہے۔ اب ہم قطر کے دفتر سے افغانستان کے ساتھ اپنے سفارتی معاملات چلائیں گے۔

افغانستان میں امریکی جنگ کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے ، افغانستان میں امن کے لیے امریکی خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ افغان اپنے ملک کی قسمت کا فیصلہ کریں۔خلیل زاد نے کہا کہ ہماری فوجوں اور اتحادیوں کی روانگی کے ساتھ ہی افغانوں کو فیصلہ کرنے کا موقع مل رہا ہے اور ان کے اپنے ملک کا مستقبل اب ان کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ طالبان کو اب ایک امتحان کا سامنا ہے۔ کیا وہ اپنے ملک کو ایک محفوظ اور خوشحال مستقبل کی طرف لے جائیں گے جس میں تمام شہریوں ، عورتوں اور مردوں کو اپنی صلاحیتوں کو حاصل کرنے کا موقع ملے گا؟ کیا افغانستان دنیا کے سامنے اپنے ثقافتی ، تاریخی اور روایتی تنوع کی خوبصورتی اور طاقت کو پیش کر سکے گا؟ واضح ہو کہ برطانیہ بھی چند روز قبل افغانستان سے اپنی فوج کے انخلا کے ساتھ کابل میں اپنا سفارتی عملہ واپس لے جا چکا ہے۔