Taliban urges nations to reopen embassies in Kabul

کابل:افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے ساتھ ہی گذشتہ کچھ روز کے دوران کابل میں دنیا بھر کے کئی سفارت خانے بند ہوجانے کے بعد طالبان نے دنیا بھر کے تمام ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ افغانستان میںاپنے سفارت خانے پھر کھول کر سفارتی سرگرمیاں شروع کردیں ۔سیاسی تجزیہ کار وں کا کہنا ہے کہ سفارت خانوں کے بند ہونے کو ملک کی نازک صورت حال کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور خبردار کرتے ہیں کہ اگر مستقبل کی حکومت کو بین الاقوامی برادری کی حمایت حاصل نہ ہوئی تو افغانستان نہ صرف تنہا پڑ جائے گا بلکہ ملک سخت بحران سے دوچار ہو جائے گا۔گذشتہ دو عشروں کے دوران افغانستان کی جانب پوری دنیا کی توجہ مرکوز رہی اور 36ممالک نے وہاں اپنے سفارت خانے کھولے اور جواباً افغانستان نے ان ممالک میں 71 سفارتخانے اور قونصل خانے جنرل کھولے ۔ لیکن افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا شروع ہونے کے بعد سے غیر ملکی بشمول امریکی و برطانوی سفارت خانوں میں سفارتی سرگرمیاں معطل ہو گئیں۔

ایک سیاسی تجزیہ کار محمد صدیق پٹ مین نے کہا کہ اب تک چالیس ممالک نے افغانستان کے ساتھ عسکری تعاون کیا ہے۔ اور اس فوجی تعاون کو سیاسی تعاون میں بدلنے میں وقت لگے گا۔ جس میں کئی دن ہی نہیںکئی ہفتے بھی لگ سکتے ہیں۔ اب صورت حال یہ ہے کہ طالبان عالمی برادری بالخصوص امریکہ پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اپنی سفارتی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرے۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ امریکہ افغانستان میں سفارتی سرگرمیاں پھر شروع کر دے گا امریکہ کی کابل میں صرف سفارتی موجودگی ہونی چاہئے ۔ہمارے ان کے ساتھ رابطے ہیں اور ہم ان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ کابل میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولیں گے ۔ ہم ان سے تجرتی تعلات کے خواہاں ہیں۔اگرچہ بین الاقوامی برادری نے سابق طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیاتھا لیکن اب ، طالبان چاہتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری افغانستان کی آئندہ حکومت کو تسلیم کرے۔طالبان ثقافتی کمیشن کے رکن احمد اللہ وسیک نے کہا کہ ہم دنیا اور خطے اور اپنے پڑوسیوں سے وعدہ کرتے ہیں کہ افغانستان ایک آزاد ملک ہے اور اس کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔

دنیا کو افغانستان کو تسلیم کرنا چاہیے اور ترقی اور سرمایہ کاری کے شعبے میں ہمارے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ملک میں شہری سفارت خانے کی مزید سرگرمیوں کے بند ہونے سے پریشان ہیں۔1990کے عشرے میں طالبان حکومت کو پاکستان ، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے علاوہ کسی اور ملک نے تسلیم نہیں کیا تھا۔اور اس بار طالبان چاہتے ہیں کہ پوری دنیا انہیںتسلیم کرلے۔ کابل کے رہائشی نور آغا ہاشمی نے کہا کہ دنیا کے ساتھ تعلقات کا ہونا ضروری ہے۔ یہ سفارتی تعلقات اور سفارت خانے ہیں جو ہمیں دنیا سے جوڑتے ہیں۔ افغانستان کو موجودہ تناظر میں عالمی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔کابل کے رہائشی احمد اللہ نے کہا کہ سفارتی تعلقات نظام کا ایک اہم اصول ہیں۔ مستقبل کی حکومت اور طالبان کو اس اصول کی پابندی کرنی چاہیے۔عالمی برادری اور اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری کی سفارتی امداد اور سرگرمیاں طالبان کے وعدوں کے کام اور ان پر عمل درآمد پر منحصر ہیں۔