The U.S. destroyed all equipment left at Kabul airport

واشنگٹن:ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے ہی امریکی فوج کے افغانستان چھوڑ کر چلے جانے پر جہاں ایک جانب طالبان جشن منا رہا ہے وہیں دوسری جانب اسے اس وقت زبردست جھٹکا بھی لگا جب امریکہ نے جاتے جاتے کابل ہوائی اڈے پر بڑی تعداد میں موجود طیاروں، بکتر بند گاڑیوں اور ہائی ٹیک راکٹ ڈیفنس سسٹم ناکارہ کر دیا۔

کابل سے آخری امریکی طیارے کے اڑنے کے بعد سے سینکڑوں طیارے اور ہتھیار بیکار کر دئیے گئے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل کینتھ میکینزی نے بتایا کہ حامد کرزئی ایئرپورٹ پر 73 طیاروں کو فوج نے غیر مسلح کردیا ہے ۔ جس کا مطلب ہے کہ یہ طیارے اب استعمال نہیں کیا جاسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ طیارے دوبارہ کبھی اڑ ان نہیں بھر سکیں گے۔ انہیں کوئی بھی نہیں چلا سکے گا۔ یقینا پھر وہ کبھی نہیں اڑپائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’14 اگست کو ریسکیو آپریشن شروع کرتے ہوئے امریکہ نے تقریباً 6000 فوجی کابل ایئرپورٹ پر تعینات کیے تھے۔ اس کی وجہ سے ایئرپورٹ پر 70 ایم اآر اے پی بکتر بند گاڑیاں بھی تباہ کر دی گئی تھیں۔ ایسی گاڑی کی قیمت تقریباً 10 لاکھ ڈالر ہے۔ اس کے علاوہ 27 ‘ہمویز’ گاڑیاں بھی غیر فعال کر دی گئی ہیں ، جو اب کوئی استعمال نہیں کرسکے گا۔ افغانستان میں امریکہ نے راکٹ ، توپ خانے اور اینٹی مارٹر – سی ریم سسٹم بھی چھوڑا ہے جو کہ ہوائی اڈے کو راکٹ حملوں سے بچانے کے لیے استعمال کیے گئے تھے۔

اس نظام کی وجہ سے پیر کو دولت اسلامیہ فی العراق والشام (داعش) کے 5 راکٹ حملوں کے بعد بھی کابل ایئرپورٹ محفوظ رہا۔ میک کینزی نے کہا کہ ہم نے یہ نظام آخری منٹ تک چلایا جب تک کہ آخری طیارہ افغانستان سے روانہ نہیں ہوا۔ان نظاموں کو توڑنا ایک پیچیدہ اور وقت لینے والا عمل ہے۔ اسی لیے ہم نے ان نظاموں کو غیر فعال کر دیا تاکہ کوئی بھی ان کو استعمال نہ کر سکے۔