Panjshir province fully captured: Taliban’s statement

کابل: نگراں وزیر برائے امور ثقافت و اطلاعات اور طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کے جنگجوؤں نے پنج شیر صوبہ پر قبضہ کر کے آخری قلعہ بھی سر کرلیا اور اب افغانستان کے چپے چپے پر طالبان پرچم لہرا رہا ہے۔

مجاہد نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ملک گیر پیمانے پر سلامتی قائم کرنے کی طالبان کی کوششیں بارآور ثابت ہوئیں اور اللہ کے فضل و کرم و مدد اور عوامی حمایت سے صوبہ پر ہمارا قبضہ ہو گیا۔ مزاحمت کر رہے پنجشیر صوبہ میں گذشتہ سات روز کے دوران زبردست جنگ جاری تھی جس میں فریقین کا زبردست جانی نقصان ہوا تھا۔

بیان کے مطابق مزاحمت کرنے والوں میں سے کچھ ہلاک ہو گئے اور باقی جو بچے انہوں نے ہاتھیار ڈال دیے یا صوبے سے فرار ہو گئے۔مجاہد نے بیان میںمزید کہا کہ ہم نے پنج شیر کے عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان سے کوئی تفریق آمیز سلوک نہیں کیا جائے گا وہ ہمارے بھائی ہیں اور افغانستان کی ترقی کے لیے مل جل کر کام کریں گے اور ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں گے۔

پنج شیر میں پسپائی سے قبل مزاحمت کے شریک رہنما احمد مسعود نے طالبان سے مذاکرات کی پیش شک کی تھی جسے طالبان نے مسترد کر دیا تھا۔