Treasury Sanctions Iranian Intelligence Network Targeting Iranian-American Activist in the United States

واشنگٹن :(اے یو ایس )امریکی وزارت خزانہ کے غیرملکی اثاثہ کنٹرول دفتر نے ان نامزد 4 ایرانی انٹیلی جنس عہدیداروں پر پابندیاں عائد کر دیں جن پر الزام ہے کہ انہوں نے حکومت ایران کے نقادوں کا قلع قمع کرنے کے لیے امریکہ میں ایک امریکی شہری اور دیگر ممالک میں ایرانی باغیوں کو ہدف بنا کر ان کو نشانہ بنایا تھا ۔وزارت خزانہ نے وضاحت کی کہ بیرون ملک سرگرم یہ ایرانی نیٹ ورک ایرانی حکومت کے ناقدین کو خاموش کرنے کے لیے ایک وسیع مہم کا حصہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیرون ملک مخالفین کو نشانہ بنانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایرانی حکومت کا جبر م±لک کی سرحدوں سے باہر تک پھیلا ہوا ہے۔ واشنگٹن سرحد پار اپوزیشن اور سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کی روش پر چلنے والی “آمرانہ حکومتوں” کا محاسبہ کرنا جاری رکھے گا جو مخالفین، صحافیوں، ناقدین اور اپوزیشن کو نشانہ بنانے کے لیے طاقت کا استعمال کرتی ہیں۔

بیان میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ایک سینیر ایرانی انٹیلی جنس عہدیدار علی رضا فرحانی ایجنٹوں کے نیٹ ورک کی قیادت کر رہے ہیں جو امریکا، برطانیہ اور کینیڈا سمیت کئی دوسرے ممالک میں ایرانی مخالفین کو نشانہ بناتے ہیں۔تین ہفتے پہلے امریکی وزارت خزانہ نے ایک ایسے شخص پر پابندیاں عائد کی تھیں جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ تیل کی اسمگلنگ کرتا ہے۔ ان کمپنیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کو مدد فراہم کرتی ہیں۔