US to use Taliban as weapon to fight Islamic State Khorasan

واشنگٹن: جہاں ایک جانب طالبان نے امریکہ کے خلاف 20سالہ جنگ کے بعد افغانستان پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا وہیں امریکی فوجی قیادت نے افغانستان میں دولت اسلامیہ فی العراق و الشام (داعش) سے وابستہ دولت اسلامیہ خراسان یا دولت اسلامیہ فی العراق و الشام خراسان کے خلاف کارروائیوں میں طالبان کے ساتھ اشتراک کو خارج از امکان قرار نہیں دیا ہے۔

اس ضمن میں امریکی صدر جو بائیڈن نے دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے نیا منصوبہ بنایا ہے۔ اس بار امریکہ زیادہ طاقتور بن کر آئی ایس خراسان پر حملہ کرے گا اور طالبان اس میں مدد کر سکتے ہیں اور پنٹاگون کے اعلیٰ حکام نے طالبان سے تعاون لینے پر غور شروع کر دیا ہے۔

جوائنٹ چیف آف اسٹاف کے چیئرمین آرمی جنرل مارک ملی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ ممکن ہے کہ امریکہ کو مستقبل میں دولت اسلامیہ فی العراق و الشام (داعش) کے دہشت گردوں یا دیگر کے خلاف افغانستان میں انسداد دہشت گردی کے کسی بھی حملے کے لیے طالبان کے ساتھ رابطہ کرنا پڑے۔