Pentagon says ‘no evidence’ to back claims of Pakistan sending ‘fighters’ to support Taliban in Afghanistan

واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع کے ہیڈ کوارٹر پینٹاگون کا کہنا ہے کہ افغانستان میں پاکستانی انتہاپسندوں کا طالبان کے شانہ بشانہ لڑ نے کے کوئی ثبوت نہیںملے ہیں۔اور نہ ہی کسی اور ذریعہ سے ان خبروں کی تصدیق ہوسکی ہے۔ سابق افغان صدر اشرف غنی نے الزام لگایا کہ پاکستان نے کابل اور افغانستان پر قبضہ کرنے کے لیے اپنے 10 تا 15 ہزار جنگجوو¿ں کو طالبان کے ساتھ بھیجا تھا۔

پینٹاگون کے پریس سیکریٹری جان کربی نے ایک پریس کانفرنس کو بتایا کہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا اسی سرحد پر موجود محفوظ ٹھکانوں میں پاکستان کا مشترکہ مفاد ہے اور وہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کا شکار بھی ہو چکے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ ہم سب ایک دوسرے کی مدد کرنے اور دنیا کے اس حصے سے اس طرح کے حملوں کا شکار نہیں ہونے کے لحاظ سے متفق ہیں۔

دوسری طرف ، ایک بڑی کانگرسی کمیٹی نے قومی دفاعی اختیارات کے قانون میں ترمیم کو متفقہ طور پر قبول کر لیا جس میں وزیر دفاع لائیڈ آسٹن سے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت کے بارے میں رپورٹ طلب کی گئی تھی۔