Saudi Arabia sends condolence message over Iraqi Shia cleric death

بغداد:(اے یو ایس )عراق کے ممتاز شیعہ عالم دین آیت اللہ عظمیٰ محمد سعید الحکیم کی وفات پر بغداد میں قائم سعودی عرب کے سفارت خانے کی طرف سے تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔سفارت خانے کی طرف سے جاری بیان میں آیت محمد سعید کی وفات پران کے لواحقین کے لیے صبر وجمیل اور مرحوم کی مغفرت اور ان کے لیے ابدی جنتوں کی دعا کی ہے۔عراقی عالم دین گذشتہ روز عراق کے حوزہ العلمیہ کے نجف میں قائم مرکز میں حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے تھے۔سعودی سفارت خانے کی طرف سے عراقی عالم دین کے انتقال پر تعزیتی بیان کو مروجہ پروٹوکول کا حصہ قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہےکہ علامہ سعید الحکیم کا شمار عصر حاضر کے ممتاز اسلامی علما میں ہوتا تھا اور دنیا میں کروڑں لوگ ان کا احترام کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کے سفارت نے بھی ان کی وفات پر تعزیت کی ہے۔ یہ ایک فطری بات ہے اور سعودی عرب کا اس موقعے پر اظہار افسوس اور عراقی عوام کی دلجوئی ضروری تھی۔تاہم علامہ الحکیم کی وفات پر سعودی سفارت خانے کے تعزیتی بیان کو ریاض اور بغداد کے درمیان فروغ پذیر تعلقات کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ بیان محض ایک عالم دین کی وفات پر تعزیت کا اظہار نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

مصطفیٰ الکاظمی کے عراق میں وزارت عظمیٰ کا منصب سنھبالنے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک نئی تقویت ملی ہے اور دونوں ملکوں کے تعلقات محض روایتی تعزیتی پیغامات سے ایک قدم آگے ہیں۔عراق میں جب علامہ الحکیم کی وفات کی تیاریاں جاری تھیں سعودی عرب کے وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نایف نے بغداد کا دورہ کیا اور وزیر اعظم مصطفیٰ کاظمی سے ملاقات کی۔یہ دورہ اگرچہ مختصر تھا مگر اس دورے کے دوران وزیر داخلہ نے اپنے عراقی ہم منصب عثمان غانمی، قومی سلامتی کے مشیر قاسم الاعرجی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد الحلبوسی سے ملاقاتیں کیں۔

ان ملاقاتوں میں عراق اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات کو فروغ دینے، خطے اور عالمی سطح پر درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مل کر کوششیں کرنے، علاقائی اور عالمی سلامتی کے تزویراتی ہدف کے حصول کے لیے مل کر جدو جہد کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اس موقعے پر سعودی وزیر داخلہ نے زور دے کر کہا کہ عراق میں استحکام سعودی عرب پر مثبت اثرات مرتب کرے گا۔