Pakistan, China, Iran and Russia try to deal with Taliban : Joe Biden

واشنگٹن:(اے یو ایس)امریکا کے صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ پاکستان، ایران، چین اور روس طالبان کے ساتھ کوئی معاہدہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ اور انہیں یقین ہے کہ یہ چاروں ممالک متنازع معاملات پر افغان طالبان سے بات اور معاہدے کے لیے کام کر رہے ہیں۔واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکا کے صدر جو بائیڈن نے یہ بات کہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ پاکستان، ایران، چین اور روس اب بھی یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ طالبان کیا کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے ترجمان محکمہ خارجہ نے طالبان کی عبوری حکومت کے اعلان پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ طالبان کو ان کی باتوں سے نہیں، ان کے اقدامات سے پرکھیں گے۔یہ معلوم کیے جانے پرکہ کیا چین کی جانب سے طالبان کو،جس پر امریکی قانون کے تحت پابندیاں عائد ہیں، مالی اعانت پر انہیں تشویش ہے بائیڈن نے کہا کہ چین کو طالبان سے حقیقی خطرہ لاحق ہے۔ اس لیے وہ طالبان سے کوئی معاملہ کرنا چاہتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ایسا ہی پاکستان کرے گا ایران کرے گا اور روس بھی کرر ہا ہے ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر چین، روس یا دیگر ممالک طالبان کو فنڈز فراہم کرتے ہیں تو اس کا زیادہ تر معاشی فائدہ ختم ہو جائے گا۔چین، روس سمیت 20 بڑے ممالک پر مشتمل گروپ کی جانب سے افغانستان کے حوالے سے جی 20 اجلاس متوقع ہے جس کی صدارت اٹلی کرے گا۔تاہم اس حوالے سے ان ممالک میں جزوی اختلاف کے باعث اجلاس کی حتمی تاریخ کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا۔چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے 29 اگست کو امریکی سیکریٹری اسٹیٹ سے کہا تھا کہ عالمی برادری طالبان کے ساتھ تعلقات قائم کرے اور ان کی ’مثبت انداز میں رہنمائی‘ کرے۔

چین نے باضابطہ طور پر طالبان کو افغانستان کے نئے حکمرانوں کے طور پر تسلیم نہیں کیا ہے لیکن وزیر خارجہ نے جولائی میں ملا برادر کی میزبانی کی جو اب نائب وزیر اعظم کے طور پر تعینات ہیں۔انہوں نے کہا تھا کہ دنیا کو افغانستان کی رہنمائی اور مدد کرنی چاہیے کیونکہ یہ ایک نئی حکومت ہے۔علاوہ ازیں امریکا کا کہنا تھا کہ وہ چاہتا ہے کہ پاکستان اور چین، افغانستان میں ‘کسی طرح کے سیاسی تصفیے’ کی راہ ہموار کرنے میں مدد کریں حالاکہ اس وقت طالبان ملک بھر میں مو¿ثر کنٹرول حاصل کر چکے ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے نیوز بریفنگ کے دوران امریکا کے پاکستان سے مطالبے سے متعلق سوال پر کہا تھا کہ ‘امریکا چاہتا ہے کہ تمام پڑوسی ممالک افغانستان میں استحکام پیدا کرنے میں مدد کریں’۔