Taliban offer to the Afghan army personnel to work with Taliban

کابل: افغانستان کے اقتدار پر قابض طالبان کے ذریعہ افغان فوج کو طالبان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی پیشکش کیے جناے سے چین اور پاکستان کو زبردست جھٹکا لگا ہے۔ طالبان کی جانب سے یہ پیشکش اس لئے بہت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ 2004 سے لے کر اس سال ہوئے تختہ پلٹ تک افغانستان کی فوج کی تربیت زیادہ تر امریکی فوجیوں کی نگرانی میں ہوئی ہے۔ایسے میں امریکی فوجیوں کے ساتھ کام کرنے والے افغان فوجیوں کو طالبان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی پیشکش کوچین اور پاکستان نے الگ الگ نظریے دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ وسط ایشیا کے امور کے ماہر اور دہلی یونیورسٹی کی ہسٹری پروفیسر کسم جوہری کا کہنا ہے کہ طالبان کی یہ پیشکش یوں ہی نہیں آئی۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبانیوںنے بہت سوچ سمجھ کر افغان فوج میں خدمات انجام د ے چکے فوجیوں اور سپاہیوں کو اپنے ساتھ جوڑنے کی حکمت عملی بنائی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ طالبان پوری دنیا کے لوگوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کرنے جارہا ہے۔

دوسری اور اہم وجہ یہ ہے کہ افغان فوج کے جوانوں اور سپاہیوں نے الگ الگ علاقو میں رہ کر ناٹو افواج کے ساتھ ملکر کام کیا ہے ، انہیں امریکی فوج کی جانب سے دئے گئے فوجی آلات اور گولہ بارود سمیت تمام ٹیکنالوجی کے بارے میں بھی پوری جانکاری ہے۔ بہت سارے تکنیکی فوجی سامان کا استعمال طالبانی ابی بھی نہیں کر پارہے ہیں۔ افغانستان کی الگ الگ بٹالین اور الگ الگ کور میں کام کرنے والے فوجی اور افسران طالبان سے ملتے ہیں تو پھر بہت سے غیر استعمال شدہ تکنیکی فوجی سازوسامان بھی طالبان کے کام آ سکیں گے۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک ہفتہ قبل کہاتھا کہ طالبان پاکستان کو اپنا دوسرا گھر مانتا ہے اور افغان سرزمین پر ایسی کسی بھی سرگرمی کی اجازت نہیں دے گا جو پاکستان کے مفادات کے خلاف ہو۔ تاہم مجاہد نے یہ بھی کہا کہ ہم اپنی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ ہندوستان اور پاکستان کو اپنے باہمی مسائل حل کرنے چاہئیں۔

قابل غور ہے کہ پاکستان نے خود بھی کئی مواقع پر طالبان کی حمایت کا اعتراف کیا ہے۔ عمران حکومت کے وزیر داخلہ شیخ رشید نے حال ہی میں خود اعتراف کیا کہ اسلام آباد طویل عرصے سے طالبان کا سرپرست رہا ہے۔ رشید نے کہا تھا کہ ہم نے تنظیم کو پناہ دے کر اسے مضبوط بنانے کے لیے کام کیا ، جس کا نتیجہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ 20 سال بعد یہ گروپ ایک بار پھر افغانستان پر حکومت کرے گا۔ اس سے قبل پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ اسلام آباد افغانستان کی حمایت میں تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔ دوسری طرف ، وزیر اعظم عمران خان نے بھی دبے چھپے الفاظ میں افغانستان سے امریکہ کی روانگی اور طالبان کی حکومت کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔