Chartered planes stranded at Mazar Sharif airport be allowed to leave Afghanistan: US

واشنگٹن:(اے یو ایس) امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے بدھ کے روز طالبان پر زور دیا کہ مزار شریف کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پھنسے ان چارٹر ڈ طیاروں کو، جن پر امریکی اور خود کو غیر محفوظ سمجھنے والے افغان باشندے سوار ہیں افغانستان سے روانہ ہو نے کی اجازت دی جائے ۔جرمن وزیرخارجہ ہائکو ماس کے ہمراہ جرمنی کے رامسٹائین ایئر بیس پر ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، بلنکن نے کہا کہ ”اس وقت طالبان چارٹر فلائٹس کو روانہ ہونے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کچھ مسافروں کے پاس مطلوبہ دستاویزات نہیں ہیں”۔امریکہ کے اعلیٰ ترین سفارت کار کے بقول ”حاصلِ کلام یہ ہے کہ ان چارٹر فلائٹس کو افغانستان سے روانہ ہونے دیا جائے۔ اور ہم ہر روز یہی کوشش کریں گے کہ یہ بات یقینی بنائی جائے کہ جانے والوں کو روانہ ہونے دیا جائے”۔اطلاعات کے مطابق امریکی شہری اور پریشان حال افغان باشندے شمالی افغانستان میں واقع مزار شریف میں پھنس کر رہ گئے ہیں، جب کہ دوسری جانب بیرون ملک جانے والی پروازوں کے منتظمین نے امریکی محکمہ خارجہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ ان کی روانگی کی سہولت کی فراہمی کے لیے درکار تگ و دو نہیں کر رہا ہے۔

ایک ٹوئٹ میں ڈیموکریٹ پارٹی کے سینیٹر، رچرڈ بلومنتھل نے کہا ہے کہ ”مجھے انتہائی مایوسی ہوئی ہے، یہاں تک کہ میں اپنی حکومت کی جانب سے تاخیر اور عمل سے عاری ہونے پر سخت برہم ہوں۔ افسر شاہی کی جانب سے سرخ فیتے کے ناقابل معافی عمل کے احتساب کے لیے کافی وقت پڑا ہوا ہے؛ لیکن اس وقت اس بات کو اہمیت دینے کی ضرورت ہے کہ ہمارے متعدد افغان اتحادی پھنس کر رہ گئے ہیں”۔اپنے بین الاقوامی پارٹنرز کے ساتھ مل کر امریکہ طالبان پر دباو¿ ڈال رہا ہے کہ وہ ملک سے باہر جانے والے افراد کو بحفاظت انخلا کی اجازت دیں اور جو کوئی بھی افغانستان سے جانا چاہے، اسے آزادانہ سفر کی سہولت فراہم کرنے کا عہد پورا کیا جائے۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، امریکہ اس وقت مخصوص افراد اور طالبان کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہے، تاکہ سرحد پار سفر کی سہولت کو یقینی بنایا جاسکے۔بلنکن اور ماس نے بدھ کے روز افغانستان کی صورت حال پر اپنے پارٹنرز کے گروپ اور اتحادیوں کے ساتھ مذاکرات کیے جن میں طالبان کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کے بعد ملک کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنے کی کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔ایسے میں جب موسم سرما قریب تر ہے ایک کروڑ 80 لاکھ افغان عوام کو غذا، صاف پانی، صحت کی دیکھ بھال اور دیگر فوری نوعیت کی اعانت کی ضرورت ہے۔

دسمبر تک انسانی بنیادوں پر امدادی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے اقوام متحدہ چھ کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی رقم جمع کر رہا ہے۔اس ورچوئل اعلیٰ سطحی وزارتی اجلاس میں 22 ممالک کے اعلیٰ عہدے دار، نیٹو، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے اہل کار شریک ہوئے، جس سے ایک ہی روز قبل طالبان نے اسلامی نگراں حکومت تشکیل دی ہے جس کے سربراہ ملا حسن اخوند ہیں، جو طالبان تحریک کے ملا عمر کے ایک قریبی ساتھی تھے۔طالبان کی سربراہی میں بننے والی نگراں حکومت میں بحیثیت وزیر داخلہ سراج الدین حقانی بھی شامل ہیں۔ وہ حقانی نیٹ ورک کے سربراہ ہیں، جسے امریکہ پہلے ہی عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔بدھ کے روز جرمن وزیر خارجہ نے کہا کہ ”معاشرے کے دیگر گروہوں کی شرکت کے بغیر طالبان کی جانب سے جس عبوری حکومت کا اعلان کیا گیا ہے، اور کل مظاہرین اور صحافیوں کی جانب سے کابل میں کیا گیا احتجاج مثبت اشاروں کی نشاندہی نہیں کرتا”۔بلنکن نے نئی طالبان حکومت میں معاشرے کے تمام طبقوں کی عدم شمولیت پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عبوری انتظامیہ کے لیے قانونی جواز اور حمایت کے حصول کے لیے کام کر کے دکھانا ہو گا۔بدھ کے روز جرمنی میں ایک پریس بریفنگ کے دوران، بلنکن نے کہا کہ امریکہ اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ طالبان کی قیادت والی حکومت کے تعلقات کی نوعیت کا پورا دار و مدار آئندہ ہفتوں اور دنوں کے دوران سامنے آنے والا ان کا طرز عمل ہو گا۔