Taliban bans protest in Afghanistan

کابل:(اے یو ایس)پچھلے کئی دنوں سے افغانستان مےں جاری حکومت مخالف احتجاج کوروکنے کے لئے طالبان حکومت نے ملک مےں احتجاجو ںاورمظاہروں پر پابندےاں عائد کر دی۔ وزارت داخلہ کے اےک حکم نامے مےں کہا گیا ہے کہ جو کوئی بھی اس کی خلاف ورزی کرے گا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جا ئے گی ۔امارت اسلامیہ افغانستان کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کئی دنوں سے متعدد افراد بدنیتی پر مبنی جماعتوں کے اکسانے اور مالی اعانت کے ساتھ دارالحکومت کابل اور کچھ ریاستوں میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ان مظاہروں کی آڑ میں سیکورٹی کی خلاف ورزی، شہریوں کو نقصان پہنچانے اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔طالبان حکومت کی وزرات دخلہ کے بیان میں یہ اعلان نے کیا گیا کہ وہ کسی بھی قسم کے مظاہرے کرنے کی کوشش نہ کریں۔بیان میںمزید کہا گیا ہے کہ’مظاہروں کو قانونی ہونا چاہیے ، کیونکہ یہ سب سے پہلے ضروری ہے کہ وزارت انصاف سے اجازت لی جائے اور پھر مظاہروں کو محفوظ بنانے کے لیے سکیورٹی سروسز کو اس سے آگاہ کیا جائے۔‘اس حوالے سے دی گئی ہدایات میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ حکام کو مظاہروں کے مقصد ، نعرے اور بینر جو ان میں استعمال کیے جائیں گے ، ان کے مقام اور ان کے آغاز اور اختتام کے وقت سے کم از کم 24 گھنٹے پہلے آگاہ کیا جانا چاہیے۔

بیان میں تنبیہ کی گئی مذکورہ قانونی طریقہ کار مکمل کرنے کے بعد مظاہرے کیے جا سکتے ہیں اور شہریوں میں انتشار پھیلانے اور نقصان سے گریز کیا جائے۔بیان میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ ’ممکن ہے کہ کچھ جماعتیں مظاہرین کی سلامتی کو خطرے میں ڈالیں تاکہ بدنیتی پر مبنی سیاسی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔‘بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ کسی بھی بدامنی کی صورت میں ذمہ داری شرپسندوں کی ہوگی اور ان کے ساتھ سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔بیان میں کہا گیا کہ ’امارت اسلامیہ شہریوں کے تمام جائز حقوق اور مطالبات کو پورا کرنے کا عہد کرتی ہے ، اور اسے (حکومت کو) موقع دیا جانا چاہیے، تاکہ وہ ملک میں سکیورٹی قائم کر سکے، اس کے بعد دیگر مسائل اور چیلنجز سے نمٹا جائے گا۔ یاد رہے کہ چند روز قبل افغان عورتوں نے دودن پہلے پاکستان کے سفارتخانے کے باہر مظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کےا تھا کہ پاکستان افغانستان مےں مداخلت کرنا بند کرے۔ وہاں پر موجود سکورٹی اہلکاروں نے ان کو تتربتر کرنے کے لئے ہوائی فائرنگ کی تھی ۔