ISI transfered important documents from the Office of former national security advisor of Afghanistan to Pakistan

کابل:(اے یو ایس ) ایک سنسنی خیز او رچونکانے والی خبرمنظرعام پر آئی ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی افغانستان کے سابق سلامتی کے مشیر دفتر سے اہم دستاویز ات کو اپنے قبضے میں لیکر 3طیاروں کے ذرےعہ پاکستان منتقل کر دیا ۔

یہ دستاویز بہت ہی حساس قسم کی معلومات رکھتی ہے۔ اور ان کو پاکستان کے ہاتھ دینا ایک سےکورٹی مسئلہ بن گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پچھلے تین دنوں سے پاکستان نے تین طیاروں کے ذریعہ اپنا امدادی سامان کابل بھیجا اور واپسی پر دستاویزوں سے بھرے بیگوں کو اسلام آباد پہنچا یا ۔

سابق قومی سلامتی کے مشیر کے ساتھ کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ان دستاویز میں افغانستان میں سیکورٹی کے علاوہ خطے کے حالات کے بارے میں اہم معلومات تھے اور پاکستان کے آئی ایس آئی نے انہیں اپنے قبضے میں لیا ہے۔ حال ہی میں پاکستان آئی ایس آئی کے چیف جنرل فیاض حمید افغانستان کے تین روزہ دورے پر تھے جہاں انہوں نے افغانستان کی حکومت ساز ی کے بارے میں بات کی اس کے ساتھ ہی انہو ںنے یہ خفیہ
دستاویز بھی حاصل کرنے کے بارے میں بات کی ۔

ان دستاویز میں کچھ ہارڈسک اوردیگرڈ جیٹل معلومات ہےں جنہیں آئی ایس آئی اپنی معلومات کےلئے استعمال کرے گی جو سےکورٹی کے لئے بڑا خطرے بن سکتا ہے یہ سارا ڈاٹا دفتر میں ہی پڑا تھا کیونکہ اشرف غنی حکومت کو اتنی جلد گرجا نے کا خدشہ نہیں تھا جب امریکہ نے افغانستان سے انخلاءکا اعلان کیا تو اس کے بعد محکمہ دفاع اور قومی سلامتی سے تعلق رکھنے والے اہلکار کام پر نہیں آئے تھے اور اس وجہ سے ان دستاویزوں کو تلف نہیں کیا جا سکا ۔

دستاوےزوں کے بارے مےں افغانستان مےں پاکستان کے سفےر نے منصوراحمد نے اپنی خفےہ اےجنسی کو الرٹ کےا اور فوراً اس پر کارروائی کی گئی دوسری طرف ا فغانستان اور پاکستان نے دوطرفہ کاروبارپاکستانی کرنسی مےں کرنے کا فےصلہ کےاگےا جس سے پاکستان کی بگڑی ہوئی معےشت کو کسی حد تک سنورنے کا موقع ملے گا ۔ اس سے پہلے دونوں ملکو ںکا کاروبار امرےکی ڈالر مےں ہوتا تھا ۔