N.Korea tests first 'strategic' cruise missile with possible nuclear capability

پیانگ یانگ:(اے یو ایس ) شمالی کوریا نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایک کروز میزائل کا تجربہ کیا ہے جو کہ جاپان کے بڑے حصے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس نئے میزائل کے تجربے کا انکشاف شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا ’کے سی این اے‘ نے پیر کے روز کیا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس میزائل کا تجربہ اتوار کو کیا گیا۔ میزائل نے 1500 کلومیٹر تک کا فاصلہ طے کیا ہے۔تاہم کروز میزائل کا یہ تجربہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی شمالی کوریا سے متعلق قراردادوں کی خلاف ورزی نہیں ہے کیونکہ سلامتی کونسل کی جانب سے شمالی کوریا پر عائد کردہ پابندیاں بیلسٹک میزائلوں کے تجربے سے متعلق ہیں نہ کہ کروز میزائلوں سے متعلق۔لیکن اس سے پتہ چلتا ہے کہ غذائی قلت اور شدید معاشی بحران کے باوجود شمالی کوریا اب بھی نئے ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔’کے سی این اے‘ کے مطابق کروز میزائل کا تجربہ ’ہماری ریاست کی سلامتی کی زیادہ قابل اعتماد طریقے سے ضمانت دینے اور دشمن قوتوں کے فوجی ہتھکنڈوں پر مضبوطی سے قابو پانے کے لیے ایک اور موثر تدارک کے طور پرا سٹریٹجک اہمیت فراہم کرتا ہے۔‘امریکہ نے اس معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ شمالی کوریا کی ’اپنے فوجی پروگرام کی ترقی پر مسلسل توجہ ہے اور اس کے پڑوسیوں اور عالمی برادری کو خطرات لاحق ہیں۔‘امریکہ نے مزید کہا کہ امریکہ کے اتحادی جنوبی کوریا اور جاپان کا دفاع کرنے کا امریکی عزم ’ناقابل تسخےر‘ ہے۔

نیوز ایجنسی ’یونہاپ‘ کے مطابق جنوبی کوریا کی فوج نے کہا ہے کہ وہ امریکی انٹیلی جنس حکام کے ساتھ مل کر اِن میزائل تجربات کا بغور تجزیہ کر رہی ہے۔امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان کے اعلیٰ سطحی حکام شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے عمل پر بات چیت کے لیے رواں ہفتے ملاقات کرنے والے ہیں۔کچھ لوگ اس میزائل کے تجربے کو کندھے ا±چکا کر مسترد کر سکتے ہیں کیونکہ یہ ایک کروز میزائل کا تجربہ ہے۔ اس قسم کے میزائل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کے تابع نہیں ہیں جو شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے عائد کی گئی ہیں۔کچھ لوگ اسے پیونگ یانگ کی جانب سے ایک اشتعال انگیزی کی سطحی کوشش کے طور پر دیکھ سکتے ہیں، جس کے ذریعے شاید وہ یہ دیکھنا چاہ رہا ہو کہ مخالفین کا کیا ردعمل ہوتا ہے۔ اس تجربے کو یقینی طور پر جنوبی کوریا کے اخباروں کی شہ سرخیوں میں جگہ نہیں مل پائی۔بات یہ ہے کہ شمالی کوریا ایک بار پھر یہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ سخت بین الاقوامی پابندیوں کے تابع ہونے کے باوجود نئے اور خطرناک ہتھیار تیار کر سکتا ہے۔یہ کروز میزائل کم بلندی پر پرواز کرتے ہیں اور ان کا پتہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ اور 1500 کلومیٹر کی رینج کا مطلب ہے کہ جاپان کے بیشتر حصے اس کی زد میں ہیں۔سرکاری میڈیا ان میزائلوں کو ’سٹریٹیجک‘ بھی قرار دے رہی ہے جس کا عام طور پر مطلب یہ ہے کہ حکومت کو اس پر جوہری ہتھیار لگائے جانے کی توقع ہے۔تجزیہ کار ابھی تک اس بابت یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہہ پا رہے ہیں کہ آیا شمالی کوریا کروز میزائل پر فٹ ہونے کے لیے جوہری ہتھیاروں کو اس کی مناسبت سے چھوٹا کرنے کی اہلیت بھی رکھتا ہے۔ تاہم رازداری برتنے والی ریاست نے اب تک کتنی ترقی کی ہے اس کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی اس کے خلاف شرط لگانے کے لیے تیار نہیں ہے۔

پیونگ یانگ سنہ 2019 میں ہنوئی میں ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان بات چیت کے بریک ڈاو¿ن کے بعد سے خاموش رہا ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان کے ہتھیار بنانے والے اپنے کاموں میں مصروف نہیں رہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیاں شمالی کوریا کو بیلسٹک میزائلوں کے تجربے سے روکتی ہیں۔کونسل انھیں کروز میزائلوں سے زیادہ خطرناک سمجھتی ہے کیونکہ وہ بڑے اور زیادہ طاقتور ہتھیار لے جانے کے اہل ہیں، وہ بہت زیادہ رینج رکھتے ہیں اور تیزی سے اڑ سکتے ہیں۔بیلسٹک میزائل ایک راکٹ سے چلتے ہیں اور کمان یا قوس کی طرح اپنا راستہ طے کرتے ہیں، جبکہ ایک کروز میزائل جیٹ انجن سے چلتا ہے اور کم اونچائی پر گزرتا ہے۔مارچ میں، شمالی کوریا نے پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کیا تھا، جس کے بعد امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کی طرف سے سخت سرزنش کی گئی تھی۔واضح رہے کہ کمیونسٹ ریاست کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر پیونگ یانگ میں نسبتا چھوٹی سطح پر منعقدہ فوجی پریڈ کے چند دن بعد یہ تازہ ترین تجربہ کیا گیا ہے۔اس پریڈ میں کسی بڑے بیلسٹک میزائل کی نمائش نہیں کی گئی، تاہم اس میں کارکنوں کو ہزمت سوٹ میں پیش کیا گیا، جو کہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ کوویڈ- 19 کے پھیلاو¿ کو روکنے میں مدد کے لیے ایک خصوصی فورس کی تشکیل دی گئی ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ 19 اگست تک شمالی کوریا میں کوویڈ 19 کا کوئی کیس ریکارڈ نہیں ہوا تھا، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کا قوی امکان نہیں ہے۔شمالی کوریا نے وائرس کے پھیلاو¿ کو روکنے کے لیے جنوری 2020 میں اپنی سرحدیں بند کر دی تھیں جس کی وجہ سے اس کے سب سے بڑے معاشی حلیف چین کے ساتھ تجارت کا حجم تیزی سے گرا تھا۔اس وقت ملک کے رہنما کم جونگ ان نے اعتراف کیا تھا کہ ملک کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے جبکہ امدادی تنظیموں کی رپورٹس کہتی ہیں کہ شمالی کوریا کی ریاست معاشی طور پر جدوجہد کر رہی ہے اور لوگ بھوک سے مر رہے ہیں۔لیکن اس کے باوجود پیونگ یانگ کے جوہری منصوبوں کو کم نہیں کیا گیا۔

گذشتہ ماہ اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ ملک نے ایک ری ایکٹر دوبارہ شروع کیا گیا ہے جو ایٹمی ہتھیاروں کے لیے پلوٹونیم پیدا کر سکتا ہے۔ اقوام متحدہ نے اسے ’انتہائی پریشان کن‘ قرار دیا تھا۔ 2017 کے دوران شمالی کوریا نے اپنی فوجی ٹیکنالوجی میں تیزی سے پیشرفت کرتے ہوئے متعدد میزائلوں کا تجربہ کیا۔گذشتہ 40 برسوں میں شمالی کوریا نے تقریبا ڈیڑھ سو میزائلوں کے تجربات کیے ہیں جس کی وجہ سے اقوام متحدہ نے اس ملک پر پابندیاں عائد کی ہیں۔شمالی کوریا ایک غریب ملک ہے اور ان میزائلوں کے تجربے پر بے انتہا سرمایہ خرچ ہوتا ہے تو پھر آخر وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟اس کی پہلی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ وہ اپنی اہلیت دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ ایسا کر سکتے ہیں۔ ان کے پاس تجربے کے لیے نئے ہتھیار دستیاب ہیں۔ملک کے نئے سربراہ کم جونگ ان کے دور میں شمالی کوریا کے سائنسدانوں نے درجنوں ہتھیار تیار کیے ہیں۔ یہ میزائل تیزی سے اور دور تک جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ زیادہ طاقتور ہیں۔پیونگ یانگ ان ہتھیاروں کو خزانے میں رکھی تلواروں کے طور پر دیکھتا ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ ان کے ملک پر حملے کے صورت میں اسے اپنی حفاظت کے لیے ان کی ضرورت ہے۔دوسری وجہ پڑوسیوں سے ہم قدم ہونا بتائی جاتی ہے۔ اگر چہ پڑوسی حریف ریاست جنوبی کوریا کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہیں لیکن اس کے حلیف امریکہ کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔ اور جنوبی کوریا کو امریکہ کی جانب سے جو تحفظ فراہم ہے اسے ’جوہری چھتری‘ کہا جاتا ہے۔اس کے علاوہ جنوبی کوریا میں 28 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں اور شمالی کوریا ہمیشہ ان کی مشترکہ فوجی مشقیں دیکھتا رہتا ہے۔ شمالی کوریا کی حکومت اسے جنگ کی تیاری قرار دیتی ہے اور اس کے جواب میں ہمیشہ میزائل کا تجربہ کرتی رہتی ہے۔

تیسری وجہ لوگوں کو اکٹھا کرنا ہے۔ ملک کے سربراہ نئے ہتھیاروں کا تجربہ کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو اکٹھا کیا جائے اور ا±ن میں جوش پیدا کیا جائے۔ اور ہاں، نامہ نگار ایسے میں واشنگٹن کی جانب دیکھتے ہیں اور یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ میزائل کے تجربے کا کس طرح جواب دے گا۔ کسی نئے صدر کے آمد کے بعد بھی بہت زیادہ تبدیلی نہیں آئی ہے۔شمالی کوریا کا سرکاری میڈیا ان تجربات کی خبریں نشر کرتا رہتا ہے جو کہ زیادہ تر ملکی ناظرین کے لیے ہوتی ہیں۔ بطور خاص مشکل حالات میں ایسا کیا جاتا ہے اور اس وقت شمالی کوریا کی معیشت خستہ حالی کا شکار ہے کیونکہ کوویڈ-19 کی روک تھام کے اقدام کے طور پر شمالی کوریا نے اپنی سرحدیں بند کر دیں ہیں اور اس کے سب سے بڑے حلیف چین سے اس کی تجارت میں تیزی سے گراوٹ آئی، یہاں تک کہ کم جونگ ان نے حال میں ایک فوجی پریڈ میں آشکبار آنکھوں سے اس کا اعتراف بھی کیا۔بعض اوقات حکومت میزائل کا تجربہ اس لیے بھی کرتی ہے تاکہ وہ لوگوں کو یہ دکھا سکے کہ ان کے پاس کچھ ہے جس پر وہ فخر کر سکتے ہیں، اگرچہ وہ بھوکے ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ مصیبت کے دنوں میں دشمن کے خلاف ایک ساتھ اور متحدہ ہونے کا احساس بھی پیدا کرتا ہے۔چوتھی اور آخری وجہ یہ ہے کہ شمالی کوریا چاہتا ہے کہ دنیا اسے سنجیدگی سے لے۔ شمالی کوریا کے انتظامیہ چاہتی ہے کہ لوگ، امریکہ اور دنیا اسے سنجیدگی سے لے۔اس کے رہنما کا کہنا تھا کہ ’امریکہ جنگ چھیڑنے کے لیے جتنا چاہے جوہری ہتھیار لہرائے لیکن اب ہمارے پاس بھی مضبوط تدارک ہے اور وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہے۔‘زیادہ تر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شمالی کوریا کا طویل مدتی مقصد ایک معمول کی جوہری طاقت بننا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ دنیا یہ تسلیم کر لے کہ وہ جوہری صلاحیت کا حامل ملک ہے۔

پیونگ یانگ نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ دہائیوں سے جاری پابندیوں کو برداشت کر سکتا ہے اور حکومت کو اپنی صلاحیت کو بہتر کرنے سے روکا نہیں جا سکتا ہے۔اس کے برعکس شمالی کوریا اب بھی اپنے محدود وسائل کو اپنے جوہری عزائم کے لیے استعمال کر رہا ہے اور یہ سب اپنے ہی لوگوں کی قیمت پر کر رہا ہے۔آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ اب تک ہم شمالی کوریا کے میزائل اور جوہری پروگرام اور اس کی فوجی صلاحیتوں کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں۔ 2017 میں شمالی کوریا نے اپنی فوجی ٹیکنالوجی میں تیزی سے پیشرفت کرتے ہوئے متعدد میزائلوں کا تجربہ کیا تھا۔ہوواسونگ -12 بلیسٹک میزائل کے بارے میں خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ 4ہزار 500 کلومیٹر (2ہزار800 میل) تک کسی بھی ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور بحر الکاہل کے جزیرے گوام پر امریکی فوجی اڈوں کو اس سے خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔بعد میں ہووسونگ 14 نامی میزائل نے اس سے بھی زیادہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ چند ماہرین کے مطابق اگر اس میزائل کو زیادہ سے زیادہ رفتار سے لانچ کیا جائے تو یہ دس ہزار کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔آخر کار ہووسونگ 15 کا تجربہ کیا گیا جس نے اندازاً 4 ہزار 500 کلومیٹر تک اونچائی پر جا کر اپنے ہدف کو نشانہ بنایا۔لیکن اگر اسے زیادہ روایتی طریقے سے لانچ کیا جائے تو یہ میزائل 13 ہزار کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے اور اس کا سادہ الفاظ میں مطلب یہ ہو گا کہ یہ امریکہ میں کسی بھی مقام کو نشانہ بنا سکتا ہے۔اکتوبر 2020 میں شمالی کوریا نے مزید نئے بلیسٹک میزائل کو لانچ کیا۔3 ستمبر 2017 کو شمالی کوریا نے پنگگی ری ٹیسٹ سائٹ پر اب تک کا سب سے بڑا جوہری تجربہ کیا تھا۔دھماکہ خیز ڈیوائس کی طاقت کا تخمینہ 100-7070 کلو ٹن تک تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ 1945 میں ہیروشیما پر گرائے جانے والے بم کے مقابلے میں اس بم کی طاقت چھ گنا زیادہ ہے۔شمالی کوریا نے دعویٰ کیا کہ یہ تجربہ اس کا پہلا تھرمو نیوکلیئر ہتھیار تھا، یہ جوہری دھماکے کی سب سے طاقتور شکل ہوتی ہے جہاں ایٹمی دھماکے میں اس سے کہیں زیادہ بڑے دھماکے کرنے کے لیے ثانوی فیوژن کے عمل کو فروغ دیا جاتا ہے۔شمالی کوریا کے پاس دنیا کی سب سے بڑی افواج میں سے ایک فوج ہے۔ دس لاکھ سے زیادہ سپاہیوں سمیت اس کے پاس ریزور فوج کی تعداد 50 لاکھ کے قریب ہے۔اس کے پاس موجود زیادہ تر سامان اور ہتھیار پرانے ہے لیکن اس کی فوج اب بھی جنگ کی صورت میں جنوبی کوریا کو بھاری نقصان پہنچا سکتی ہے۔

شمالی کوریا کے پاس خصوصی فوجی دستوں کی تعداد دو لاکھ ہے جو کہ کسی بھی وقت جنوبی کوریا میں کسی تنازع کی صورت میں دراندازی کر سکتے ہیں۔اس میں ممکنہ طور پر ان سرنگوں کا غلط استعمال بھی ہو سکتا ہے جن کی تعداد 20 سے 25 ہے اور جو دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر موجود غیر فوجی علاقے میں ہیں۔ یہ جنوبی کوریا اور امریکہ کی فارورڈ لائنز کے درمیان ہے۔ایک اور خطرہ شمالی کوریا کی آرٹلری اور راکٹ لانچرز کی تنصیبات سے ہے جو کہ سرحد کے ساتھ موجود ہیں۔ ان کو چلانے سے جنوبی کوریا میں اس کے دارالحکومت سیﺅل سمیت کئی علاقوں میں تباہی ہو سکتی ہے۔ سیﺅل شمالی کوریا کی سرحد سے صرف 60 کلومیٹر سے بھی کم دوری پر ہے۔کیمیائی ہتھیاروں کا بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سنہ 2012 میں جنوبی کوریا کی حکومت نے اندازہ لگایا تھا کہ شمالی کوریا کے پاس 2500 سے 5000 ٹن تک کے کیمیائی ہتھیار موجود ہیں اور یہ ممکنہ طور پر زمین پر اس نوعیت کے ہتھیاروں کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔