Pakistan journalists protest against proposed media law

اسلام باد:(اے یو ایس)سیکڑوں صحافیوں نے پاکستان پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہرحکومت کی طرف سے نئی میڈیا پالیسی کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا اور کہاکہ یہ مجوزہ قانون صحافت کا گلا دبانے کے لئے بنایاجارہا ہے۔صحافیوں کی یونین کی طرف سے دیئے گئے دھرنا کال میں صحافیوں کے علاوہ انسانی حقوق کے سر گرم کارکن اور مختلف سیاسی پارٹیوں کے رہنماﺅں نے بھی شرکت کی۔پچھلے کئی ہفتوں سے صحافتی تنظیمیں حکومت سے یہ مطالبہ کررہی ہیں کہ وہ آزادی صحافت کو سلب نہ کرے۔ کیونکہ اس سے ملک کی جمہوری نظام کو زبردست نقصان پہنچے گا۔ اس کے باوجود کئی صحافیوں کو حراست میں لیاگیا۔ جبکہ نامور صحافی حامد میر کو اپنے اہل خانہ کو باہر بھیجنا پڑا۔

جیو ٹی وی پر ان کے پروگرام کو بھی بند کیاگیا۔ صحافیوں نے کہا کہ نیا قانون دستور کے خلاف ہے جوہر شخص کو اظہار رائے کا پوراحق دیتا ہے۔انہوں نے کہا فرضی خبریں دینے پر حکومت نے کروڑوں روپے کا جو جرمانہ لگانے کا فیصلہ کیا ہے اس سے عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے۔مصنف مہمل خالد نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان میں صحافت پر جو پابندیاں لگائی گئی ہیں اس کی مذمت ہورہی ہے ۔ایمنیسٹی انٹر نیشنل اور دوسرے بین الاقوامی اداروں نے پاکستانی حکومت کو پریس سینسر شپ لگانے پرلتاڑا۔آج اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت کی نئی پریس پالیسی پر اعتراض کیا ہے۔وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ ابھی تک ایک ایک ڈرافٹ بل بھی جس کا حتمی فیصلہ نہیں کیاگیا ہے۔

اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ کچھ تنظیمیں فرضی خبریں چھپا کر ملک کے مفادات کوزک پہنچائی۔احتجاجی صحافیوں نے نیشنل پریس کلب سے اپنا مارچ شروع کیا۔اور پارلیمنٹ کے سامنے دھر نے پر بیٹھ گئے۔انہوں نے کہا کہ وہ گورنمنٹ کے اس فیصلے کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھیںگے۔فیڈریشن کے جنرل سکریٹری ناصر زیدی نے کہا کہ حکومت نے جو ڈرافٹ بل بنایا ہے اس سے آزادی¿ صحافت پر ضرب لگے گی۔ایک اور سینئر صحافی افضل بٹ نے کہا کہ ماضی میں بھی صحافیوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی۔صحافیوں کی حمایت کے لئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی ان کے ساتھ اظہار یکجہتی د کھائی ۔اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کے شاذیہ ملک ،مسلم لیگ کی مریم نواز اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نوید آفریدی نے کہا کہ عدلیہ اور میڈیا کوتباہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔