Taliban reject Pak minister's claims on trade in Pakistani rupee

کابل: پاکستان کو ،جو اس وقت افغانستان میں اپنے دہشت گردوں کی کٹھ پتلی طالبان کو اقتدار میں واپس لانے میں خفیہ طور پر کلیدی کردار ادا کرنے کے بعد اب اس جنگ زدہ ملک کی معیشت پر قبضہ کرنے کے چکر میں ہے، اس وقت زبردست جھٹکا لگا جب افغانستان نے زرمبادلہ کے انتظام کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان پاکستانی روپے میں تجارت کرنے کے پاکستانی دعوے کو خارج کر دیا۔

کلچرل کمیشن کے ایک رکن احمد اللہ واثق نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت میں رقم کا لین دین افغان کرنسی میں ہی ہوگا۔ افغانستان کی طالبان حکومت کی جانب سے یہ بیان ان متعدد رپورٹوں کے بعد آیا ہے جس میں پاکستان جلد ہی اپنی کرنسی میں افغانستان کے ساتھ تجارت شروع کرنے والا ہے جس پاکستان پر تجارتی خسار ے کا بڑھتا بوجھ کچھ ہلکا ہو جائے گا۔

پاکستان کے اس اقدام سے افغان تاجروں اور صنعت کاروں پر پاکستان کی گرفت برقرار رہتی اور اس راستے سے پاکستان طالبان، فوج اور خفیہ ایجنسی کے بعد اب افغان معیشت پر بھی قبضہ کرنا چاہتا تھا ۔ اگر ایسا ہوجاتا ہے تو تمام تجارت اور کاروبار پاکستان کی قیمتوں پر منحصر ہو جاتی۔کیونکہ تجارتی معاہدے کے تحت طالبان پاکستان میں منشیات بھیج سکے گا۔

سیاسی سطح پر بھی پا کستان کا افغانستان پر کتنا غلبہ ہے اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ابھی کچھ دن پہلے آئی ایس آئی کے سربراہ حامد فیض کابل گئے تھے اور خیال کیا جاتا ہے کہ ان کے سخت موقف کے بعد سراج الدین حقانی جیسے دہشت گردوں کو وزارت داخلہ جیسے اہم عہدے دئیے گئے۔ سراج الدین حقانی پاکستانی فوج کا پروردہ ہے ۔ اس کے علاوہ لشکر طیبہ کے گہرے روابط رکھنے والے ملا عمر کے بیٹے کو وزیر دفاع بنایا گیا ہے۔