Tribal welfare among top priorities of govt: J&K L-G

سری نگر:(اے یو ایس ) جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر میں فارسٹ ایکٹ کے نفاذ کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی کا شکر گزار ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2019 سے پہلے جموں و کشمیر میں بھارت سرکار کے کئی قوانین لاگو نہیں ہوتے تھے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے یہ باتیں پیر کو یہاں گجر بکروال طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد میں فارسٹ رائٹس ایکٹ کی اسناد تقسیم کرنے کی ایک تقریب کے دوران فرصت کے لمحات میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔

انہوں نے کہا: ‘میں بھارت کے وزیر اعظم کا آج دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جن کی بدولت یکم دسمبر 2020 کو ہم نے فارسٹ ایکٹ لاگو کرنے کی کارروائی شروع کی۔ 2019 سے پہلے تو یہاں بھارت سرکار کے کئی قوانین لاگو ہی نہیں ہوتے تھے’۔ منوج سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر انتظامیہ بالخصوص محکمہ جنگلات اور محکمہ قبائلی امور نے کوششیں شروع کیں کہ ان طبقوں کی ترقی کے لئے کیا کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا: ‘بیس ہزار کے قریب درخواستیں آئی ہیں جن میں سے کچھ انفرادی اور کچھ کیمونٹیز کی ہیں۔ آج آپ نے دیکھا کہ کئی مستفدین کو فارسٹ ایکٹ کے متعلق اسناد فراہم کی گئیں’۔ ان کا مزید کہنا تھا: ‘جو بھی افراد یا کیمونٹیز اس ایکٹ کے حقدار ہیں انہیں ایک مقررہ وقت کے اندر اسناد دی جائیں گی۔ ہمارے چیف سکریٹری کا کہنا ہے کہ 75 دنوں کے اندر یہ کام مکمل کر لیا جائے گا’۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ فارسٹ ایکٹ کے علاوہ بھی جموں و کشمیر انتظامیہ ان کی تعلیم، صحت اور ان کی ترقی کے لئے کئی اسکیمیں چلا رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا: ‘میں مطمئن ہوں کہ اس طبقے کو بھی ہم قومی دھارے سے جوڑ لیں گے۔