Pakistan dossier details Indian war crimes, rights violations in Kashmir

اسلام آباد: پاکستان نے اتوار کو ایک ڈوزیئر جاری کیا، جس میں کشمیر میں ہندوستانی حکام کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا گیا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف اور وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کے ہمراہ اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں 131 صفحات پر مشتمل دستاویز جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہمیں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور اس (بھارت) حکومت کا اصل چہرہ بے نقاب کرنا چاہیے جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعوی کرتی ہے۔

قریشی نے کہا کہ ڈوزیئر اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔ہندوستان نے پاکستان کو بارہا بتایا ہے کہ جموں و کشمیر ملک کا اٹوٹ انگ تھا ، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ انہوں نے پاکستان کو یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ حقیقت کو قبول کرے اور ہندوستان مخالف تمام پروپیگنڈا بند کرے۔ ہندوستان نے پہلے بھی پاکستان کو بتایا تھا کہ جموں و کشمیر سے متعلق معاملات اس کے اندرونی معاملات ہیں اور ملک اپنے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

قریشی نے کہا کہ ڈوزیئر 113 حوالہ شدہ واقعات پر مبنی ہے جن میں سے 26 بین الاقوامی میڈیا سے ، 41 بھارتی تھنک ٹینک اداروں سے اور صرف 14 پاکستان سے حاصل ہوئی ہے۔آرٹیکل 370 کے خاتمے سے تنا و¿میں اضافہ ہواانہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ مبینہ جنگی جرائم میں ملوث افراد اور اداروں کے نام رجسٹرکرنے اور ان پر پابندی لگانے کی مانگ کی ہے۔ دستاویز میں کشمیر میں کیمیا ویہتھیاروں کے استعمال کا الزام لگایا گیاہے۔ قریشی نے کہا کہ یہ ‘کیمیائی ہتھیاروں کا معاہدہ’ کی خلاف ورزی ہے اور اس معاملے معاملے میں ‘منصفانہ بین الاقوامی تحقیقات’ کی ضرورت ہے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھ گئی ہے جب بھارت نے 5 اگست 2019 کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کردیا تھا۔پاکستان نے بھارت کے اس فیصلے پر سخت رد عمل ظاہر کیا تھا اور اس کے بعد سفارتی تعلقات کمزور ہو گئے تھے۔ ہندوستان نے دو ٹوک الفاظ میں عالمی برادری کو بتایا ہے کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی اس کا اندرونی معاملہ ہے۔ ہندوستان نے کہا ہے کہ وہ اسلام آباد کے ساتھ دہشت گردی ، دشمنی اور تشدد سے پاک ماحول میں معمول کے ہمسایہ تعلقات چاہتا ہے۔ نیز دہشت گردی سے پاک ماحول بنانا پاکستان کی ذمہ داری ہے۔