Poor people living in areas affected by conflicts may become hot spot for theses areas

قادر خان یوسف زئی

عالمی برادری کو ابترمعاشی صورت حال کا سامنا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی امدادی تنظیمیں ایسے ممالک میں اپنی سرگرمیاں سرانجام دیتی ہیں جہاں عوام کی کثیر تعداد کی دیکھ بھال کے لئے خیرات، رضاکارانہ امداد کی منتظر ہوتی ہیں۔ عالمی بینک نے اپنی ایک رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ سال 2021 تک 15کروڑ افراد انتہائی غربت کی لیکر سے نیچے زندگی گزار رہے ہوں گے، جن کی روزانہ آمدن 1.9 ڈالر یا تقریباً 311 پاکستانی روپے ہوگی۔عالمی بینک کے صدر ڈیوڈ مالپاس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ‘وبا اور عالمی کساد بازاری کے باعث دنیا کی 1.4 فیصد آبادی انتہائی غربت تک پہنچ سکتی ہے۔’اپنی فلیگ شپ رپورٹ میں بینک کا کہنا تھا کہ اگر یہ وبا نہ آتی تو عالمی انتہائی غربت کی شرح 7.9 فیصد تک گرنے کی توقع کی جارہی تھی۔ تاہم اب یہ شرح 9.4 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔دنیا میں 40 فیصد سے زائد غریب افراد تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں رہتے ہیں اور عالمی بینک کی رپورٹ کے مصنفین کا کہنا ہے کہ وبا کی وجہ سے ان علاقوں میں ‘غربت کے ہاٹ سپاٹ’ بن سکتے ہیں جہاں پہلے ہی معاشی بحران اور تنازعات موجود ہیں۔ 2018 میں پاکستان کی آبادی کی 31.3 فیصد تعداد یعنی تقریباً سات کروڑ غربت کی لکیر کے نیچے تھی۔ 2020 میں یہ تعداد بڑھ کر 40 فیصد یعنی آٹھ کروڑ 70 لاکھ ہوچکی ہے۔کرونا وبا کی وجہ سے بے روزگاری اور غربت میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 2021 کے مایوس کن اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں غربت کی شرح 31.4 فیصد، سندھ میں 45 فیصد، خیبر پختونخوا میں 49 فیصد اور بلوچستان میں خوفناک 71 فیصد ہے۔ عالمی بینک کی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان کی 80 فیصد غریب آبادی دیہاتوں میں بستی ہے۔

پاکستان میں متمول طبقہ ایک اندازے کے مطابق اپنی آمدن کا تقریباً 20 سے 30 فیصد حصہ جب کہ نچلے متوسط اور غریب طبقے کے لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد اپنی آمدن کا 70 سے 80 فیصد حصہ خوراک پر ہی خرچ کرتی ہے۔اس لیے اشیائے خوراک کی قیمتوں میں اضافے سے غریب و متوسط طبقہ بری طرح متاثر ہوا اور مزید غربت کے مسائل کا شکار ہوا۔ ماہرین معاشیات کے خیال میں صرف پچھلے دو سالوں کی افراط زر کی وجہ سے تقریباً 40 لاکھ نئے لوگ غربت کا شکار بنے۔ غربت کی وجہ سے شہروں میں آباد لوگوں کے صرف 13 فیصد بچے مڈل سکول تک پڑھ پاتے ہیں جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح 2 فیصد کے قریب ہے۔پاکستان کی آبادی خطرناک دو فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے اور 2050 میں ہماری آبادی 35 کروڑ سے بھی تجاوز کر چکی ہوگی پاکستان کی تقریباً آدھی سے زیادہ آبادی نا خواندہ ہے اور اس وقت غربت کی وجہ سے تقریباً 80 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ ایک مطالعے کے مطابق نائجیریا کے بعد پاکستان میں سب سے زیادہ بچے سکولوں میں نہیں جا پاتے۔بادی ءالنظر حکومت کی جانب سے غربت کے خاتمے اور کمی کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں لیکن معاشی پالیسیوں میں تسلسل نہ ہونے، مختلف مافیاز کی جاراہ داری کی وجہ سے غریب و متوسط طبقے کو ریلیف نہیں مل سکا اور غریب، مزید غریب ہوتا جارہا ہے، اشیا ئے ضروریہ میں اجناس کے علاوہ صحت عامہ اور بنیادی تعلیم کا حصول بھی اس قدر مشکل بنا دیا گیا ہے کہ ایک خاندان کو زندہ رہنے کے لئے مل کر کام کرنا پڑتا ہے، فرد واحد سے سات افراد کا کنبہ چلنا دشوار ہوچکا ہے، اس المیے کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے بچے اور گھریلو خواتین بھی اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے کم ترین اجرتوں پر کام کرنے پر مجبور ہیں، جس کا نقصان براہ راست آنے والی نسل پر منتقل ہورہا ہے، ہنر مندی اور اعلیٰ تعلیم کے ساتھ پیشہ وارانہ ذمے داریوں سے نمٹنے کے لئے پاکستان کے غریب اور متوسط طبقے کو بدترین حالات کا سامنا ہوگا، جس سے نکلنے کے لئے اگر دور رس حکمت عملی وضع نہیں کی گئی تو نقصان ناقابل برداشت ہوسکتا ہے۔

مختلف ممالک نے اپنی عوام کو غربت کی سطح سے باہر نکالنے کے لئے انقلابی اقدامات کئے، جن کی تقلید کرتے ہوئے نا ساعد و پریشان حالات سے باہر نکلا جاسکتا ہے۔ اس وقت چین ایک ایسا ملک ہے جس نے اپنی کروڑوں عوام کو غربت سے باہر نکالا، چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ ا±نھوں نے 2012 میں عہدہ سنبھالنے پر 10 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالنے کا جو عزم کیا تھا، وہ اب پورا ہو گیا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق 1990 میں چین میں 75 کروڑ افراد غربت کی بین الاقوامی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے تھے۔ یہ اس کی آبادی کا دو تہائی حصہ تھا۔ 2012 تک یہ تعداد نو کروڑ تک آ گئی تھی اور 2016 تک یہ تعداد 72 لاکھ (آبادی کا صفر اعشاریہ پانچ فیصد) رہ گئی تھی۔ مجموعی طور پر چین میں 30 سال پہلے آج کے مقابلے میں 74 کروڑ 50 لاکھ لوگ انتہائی غربت کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ چین نے اس کے جو اقدامات و اصلاحات کیں وہ قلیل المدت بھی تھی اور طوہل المعیاد بھی، اس وقت چین کی پالیسیوں پر کافی تنقید بھی کی جاتی رہی لیکن وقت نے ثابت کیا کہ چینی قیادت نے غربت کے خاتمے کے اقدامات کئے اس سے نمٹا جاسکتا ہے۔دنیا بھر میں غریب و ترقی پذیر ممالک کی تعداد امیر ممالک سے زیادہ ہے، اس کی بھی ایسی کئی وجوہ ہیں جن میں غریب و ترقی پذیر ممالک پر سرمایہ داری نظام کے تحت قرضوں پر بھاری سود، امدادی پروگراموں پر سخت شراط، عالمی اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کے مطابق حکومت سازیاں کرانا، خانہ جنگیوں اور جنگ مسلط کرانے سے لے کر پابندیوں کی آڑ میں فروعی مفادات کے حصول تک، ترقی یافتہ ممالک کا رویہ و پالیسیاں دنیا میں غربت میں اضافے کا اہم موجب بھی ہیں، بالخصوص کرپشن کے ذریعے غیر قانونی رقوم کو اپنے بنک ذخائر میں محفوظ و خفیہ رکھنے کی پالیسیوں نے منی لانڈرنگ کے ناسور کو فروغ دیا ہے، جس کے باعث غریب عوام کی فلاح و بہبود کے لئے خرچ کی جانے والی رقوم ترقی یافتہ ممالک میں استعمال ہوجاتی ہیں اور عالمی قوانین کے موثر نہ ہونے کی وجہ سے غربت میں کمی لانا مشکل تر ہوتا جارہا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ منی لانڈرنگ کے عالمی قانون کو بنانے کے لئے موثر اقدامات کرے، ترقی یافتہ ممالک کی جانب دارانہ پالیسیوں کو تبدیل کرنے کے لئے ان کی بلیک میلنگ میں نہ آئے، جب اقوام متحدہ کی سطح پر غربت کے خاتمے کے لئے موثر و عملی اقدامات نہیں ہوں گے اس وقت تک غریب لوگوں کو خطہ غربت سے باہر نکالنے کی ہر کوشش کمزور رہے گی۔ صرف امدادی تنظیموں و خیراتی اداروں سے دنیا بھر میں غربت کو ختم نہیں کیا جاسکتا، جب تک ترقی یافتہ ممالک اپنے رویئے و پالیسیوں کو بھی تبدیل نہیں کرتے۔