Taliban will be responsible for reemergence of Al Qaida: Blinken

واشنگٹن : افغانستان میں القاعدہ کے سر ابھارنے اور اس کی سرگرمیوں کے حوالے سے امریکی سراغرساں ادارے (سی آئی اے) کے عہدیداروں کے خیالات کے درمیان امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے کہا ہے کہ اگر افغانستان سے القاعدہ امریکہ کے لیے خطرہ بنا تو اس کی تمام تر زمہ دری افغانستان پرعائد ہو گی۔

بلنکن نے کہا کہ اگرچہ طالبان نے افغانستان سے کسی کو بھی امریکہ سمیت کسی بھی ملک کے لیے خطرہ بننے کی اجازت نہ دینے کا وعدہ کیا ہے لیکن لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امریکہ اس وعدے پر بھروسہ کرکے بے فکر ہو جائے گا۔ ہم خطے میں دہشت گردی کے خلاف خطرات پر نظر رکھنے اور ان کو بے اثر کرنے کے لیے کام جاری رکھیں گے۔لیکن طالبان القاعدہ اور داعش جیسے گروہوں کے فروغ کے لیے امریکہ کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

طالبان کے ایک فوجی کمانڈر شہاب الدین لیوال کا کہنا ہے کہ داعش اور القاعدہ جیسے گروہ پچھلے 20 سالوں سے امریکہ اور سابقہ حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔بی بی سی نے سی آئی اے کے حوالے سے بتایا کہ سی آئی اے کی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ القاعدہ افغانستان میں کام کر رہی ہے اور وہ اس نیٹ ورک پر کڑی نگرانی رکھیں گے۔

ایک سیاسی تجزیہ کار نور اللہ ولی زادہ نے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ القاعدہ افغانستان میں کچھ علاقائی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور امریکہ کے حریف ممالک کی حمایت سے سرگرم ہو اور یہ امریکہ کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔بین الاقوامی تعلقات کے ایک ماہر حامد عبیدی نے کہا کہ امریکہ نے حقیقت میں یہ تسلیم کیا ہے کہ افغانستان میں اس کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔