At least 153 Afghan media outlets stop operations after Taliban takeover

کابل: گزشتہ ماہ طالبان کے افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد20صوبوں کے کم و بیش 153 افغان میڈیا اداروں نے طالبان کے خوف سے خبرنگاری و رسانی کا کام بند کر دیا۔لیکن ٹولو نیوز کا کہنا ہے کہ یہ ابلاغی ذرائع جن میں ریڈیو ، پرنٹ اور ٹی وی چینلز شامل ہیں اور معاشی مسائل اور پابندیوں کی وجہ سے بند ہوئے ہیں۔

افغانستان فیڈریشن آف جرنلسٹس کے نائب سربراہ حجت اللہ مجددی نے کہا کہ اگر میڈیا کی حمایت کرنے والی تنظیمیں آؤٹ لیٹس پر توجہ نہ دیں تو جلد ہی ط ملک میں باقی ذرائع ابلاغ بھی جن میںنیوز چینل ،نیوز پورٹل اور اخبارات شامل ہیں، بند ہوتے دیکھیں گے۔علاوہ ازیں پریس کی آزادی اور دیگرا نسانی و سماجی آزادیاں بھی سلب ہو جائیں گی۔

متعدد میڈیا اداروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ حکومت کے خاتمے کے بعد سے کئی صحافیوں کو مارا پیٹا گیا ہے۔دریں اثناءبعض صحافیوں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافیوں پر مظالم کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

پروان جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے نائب سربراہ پرویز امین زادہ نے کہا کہ طالبان نے افغانستان اور کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے صحافیوں کے ساتھ جو سلوک کیا وہ صحافیوں کے لیے باعث تشویش ہے۔ ایک صحافی حزب اللہ روحانی نے کہا کہ یہ افغان صحافیوں کے لیے انتہائی تشویش کا باعث ہے اور ہم اسلامی متحدہ عرب امارات پر زور دیتے ہیں کہ وہ ان مسائل کو حل کرے۔