Black market visa business booming in Afghanistan

کابل: اشرف غنی قیادت والی حکومت کے گر جانے کے بعد جہاں ایک جانب تمام ممالک کے سفارت خنے بند ہو گئے وہیں دوسر ی جا نب ویزوں کی درخواست دینے والے افغان شہریوں و غیر افغان رہائشیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کے باعث ر ویزا جاری کرنے کی کالا بازاری عروج پرہے۔ کچھ ٹورسٹ ٹریول کمپنیوں کا کہنا ہے کہ صرف پاکستان کا ویزا ہی قانونی طور پر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن دوسرے ممالک کے متعدد ویزے بلیک مارکیٹ میں بہت زیادہ قیمتوں پر فروخت کیے جارہے ہیں ۔ یہاں تک کہ ایک ہزار ڈالر سے بھی زیادہ قیمت پر ویزے فروخت کیے جارہے ہیں۔

ملک کے متعدد شہریوں نے بیرونی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ا پنے ویزا جاری کرنے کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کریں ویزے کے حصول کے لیے ان کو دپیش پریشانیاں حل کریں اور ویزوں کی خرید و فروخت کی کالا بازاری ختم کریں۔کابل کے رہائشی محمد ہارون نے بتایا کہ اگرچہ ان کے پاس پاکستانی ویزا تھا ، لیکن انہیں طورخم گیٹ کے ذریعے بغیر دستاویز کے ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں تھی۔ان کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی سفارت خانے کے قریب بہت سے لوگ پیسے کے عوض یہ ویزے فروخت کر رہے تھے۔محمد ہارون نے کہا کہ لوگ یہاں ایک ماہ سے دو ماہ تک انتظار کر رہے ہیں ۔ایک ٹریول کمپنی کے سربراہ شفیع صمیم کا کہنا ہے کہ پاکستان کا ویزا صرف قانونی طور پر حاصل کرنا ممکن ہے ، لیکن کئی پڑوسی ممالک کے ویزوں کی بلیک مارکیٹ میں تجارت کی جاتی ہے۔

ان کے مطابق ، پاکستانی ویزے 350ڈالر ، تاجکستان کے 400 ڈالر ، اور ازبکستان کے ایک ہزار350 تک اور ترکی کے5ہزار ڈالر فی ویزہ حاصل کیے جاسکتے ہیں۔پاکستانی ویزے کی قیمت پہلے 15 ڈالر، ہندوستان کے لیے 20 ڈالر ، تاجکستان اور ازبکستان کے لیے 60 ڈالر اور ترکی کے ویزے کے لیے 120 ڈالر فیس تھی۔شفیع صمیم نے کہا ، “تاجک ویزا کی اصل قیمت ساٹھ ڈالر ہے ، لیکن یہ مارکیٹ میں تین سو پچاس سے چار سو ڈالر میں فروخت کیا جاتاہے۔” ترکی کے ویزے کی اصل قیمت ایک سو بیس ڈالر ہے ، لیکن اسے بلیک مارکیٹ میں پانچ ہزار ڈالر تک فروخت کیا جا سکتا ہے۔ اس روشنی میں افغان شہری بیرونی ممالک سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ کابل میں اپنے سفارت خانوں کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرکے اور ویزے جاری کرکے ویزہ حصول سہل بنائیں۔

ایک ٹریول کمپنی کے ملازم پرویز اکبری نے کہا کہ ہم کہتے ہیں کہ سفارتخانے قانونی طور پر کھولے جائیں تاکہ کالا بازار ختم ہو۔کابل کے رہائشی احمد اللہ نے کہا کہ بہت سارے مسائل ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ سفارتخانے جلد کھولے جائیں اور لوگوں کو ویزے دیے جائیں۔تاہم اب تک افغانستان سے بیرونی ممالک کا ہوائی سفر دوبارہ شروع نہیں ہوا ہے اور جو لوگ بیرون ملک جانا چاہتے ہیں ان کی تعداد میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے۔