Monsoon mayhem in UP kills 40 people

لکھنؤ: مختلف ذرائع سے موصول اطلاع کے مطابق اترپردیش میں موسلا دھار بارش کی وجہ سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 40 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد مکانات منہدم ہو گئے اور بڑی تعداد میں مویشی بھی مر گئے۔جون پور کے سرائخانی گاؤں میں بھرت لال کے گھر کے پانچ لوگ اس بات سے بے خبر سو رہے تھے کہ صبح ان پر دیوار گر گئی۔ پہلے گاؤں والے مدد کے لیے آئے ، بعد میں انتظامیہ بھی پہنچ گئی۔ ملبے سے نکالے گئے تین افراد مر چکے ہیں جبکہ دو زخمیوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ایودھیا ریلوے اسٹیشن کے اندر بارش کا پانی بھر گیا ہے۔ وہاں کا عملہ بشمول اسٹیشن ماسٹر کرسی پر اپنے پاو¿ں اٹھائے بیٹھا ہے کیونکہ فرش پر بارش کا پانی ہے۔ پورے دفتر کی یہی حالت ہے۔

ایودھیا کے محلے بھی پانی سے بھرے ہوئے ہیں۔ لوگ ڈوبی سڑکوں پر جے سی بی سے گھر جا رہے ہیں۔ ایک اور دھرمنگری پریاگ راج میں بھی ، موسلا دھار بارش کی وجہ سے تمام علاقے زیر آب آگئے۔ یہاں کئی مکانات منہدم ہوئے ہیں۔کئی سرکاری گوشالوں میں گائے بھی مر رہی ہیں۔ ہردوئی کے کچہونا کوتوالی علاقے کے پتسینی دیہی علاقوں میں افراتفری کے درمیان گؤشالہ میں پانی جمع ہونے اور بیماری کی وجہ سے آٹھ گائیں مر گئیں۔ ساتھ ہی 6 گائیں شدید بیمار ہو گئیں اطلاع ملنے کے بعد انتظامیہ میں ہلچل مچ گئی اے ڈی ایم ایس ڈی ایم سی او چیف ویٹرنری آفیسر سمیت پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی اس پورے معاملے میں گاوں ڈیولپمنٹ آفیسر کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ بی ڈی او کو شو کاز نوٹس جاری کیا گیا ہے اور ویٹرنری آفیسر کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی گئی ہے اور گاؤں کے سربراہ کی ذمہ داریاں نبھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اے ڈی ایم نے بتایا کہ بیمار جانوروں کو علاج کے لیے بھیجا جا رہا ہے گﺅ شالہ کے لیے مناسب انتظامات کیے جا رہے ہیں یہاں تعینات تین کیئر ٹیکرز کو بھی ہٹا دیا جائے گا۔ بارش سے مچی بھاری تباہی کے پیش نظر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ہدایت دی ہے کہ میونسپل باڈی اور پنچایتی راج کے تمام افسران اور ملازمین متاثرہ مقامات کا ورہ کریں اور ریکارڈ توڑ بارش سے ہونے والے نقصان کا جائزہ لیں اور لوگوں کو مناسب راحت فراہم کریں اور نقصان کا جائزہ لینے کے بعد رپورٹ پیش کریں۔وزیراعلیٰ نے محکمہ صحت اور شہری ادارہ کو مناسب اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ پانی جمع ہونے سے کوئی بیماری نہ پھیلے۔ نقصان کا اندازہ لگایا جائے۔ اس کے ساتھ ، پانی جمع ہونے کی صورت میں پانی کو نکالنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر انتظامات کیے جائیں۔