Pentagon admits civilians killed in Kabul airstrike

واشنگٹن:امریکی فوج کا کہنا ہے کہ کابل میں ایک گھر پر امریکی ڈرون حملہ امریکی فوج کی غلطی تھی جس میں کئی عام شہری ہلاک ہوئے۔

پنٹاگون کے عہدیداران نے جمعہ کے رو میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کابل میں یہ ڈرون حملہ ایک اس کار کو ہدف بنا کر کیا گیا تھا جس پر داعش خود کش بمباروں کو لے جانے کا شبہ تھا۔ 29 اگست کو امریکی فوج کے ذریعہ کیے گئے اس فضائی حملہ میں دعویٰ کیا گیا کہ داعش کے ارکان مارے گئے ہیں۔

لیکن امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل کینتھ میکینزی نے کل صحافیوں کو یہ بتاتے ہوئے کہ کابل کے پی ڈی15میں ایک مکان کے احاطے میں کھڑی کار کو نشانہ بنا کر کیے گئے حملے میں تمام ہلاک شدگان عام شہری تھے ، اسے افسوسناک غلطی قرار دیا۔میکینزی نے کہا کہ آپریشن کمانڈر کی حیثیت سے میں اس حملے اور اس کے افسوسناک نتائج کا ذمہ دار ہوں۔

میک کینزی نے یہ بھی کہا کہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس حملے میں دہشت گردوں کو نشانہ بنایا گیا اور انہیں کابل ایئرپورٹ پر حملہ کرنے سے روکا گیا۔اس حملے میں سات بچوں سمیت دس افراد ہلاک ہوئے جن میں ایک دو سالہ بچہ بھی شامل ہے۔اس سے قبل متاثرہ خاندان کے رشتہ دار بار بار کہہ چکے تھے کہ مرنے والوں کا داعش سے کوئی تعلق نہیں ہے۔