Afghanistan: Taliban bans the entry of female employees in the Ministry of Women

کابل: افغانستان میں نئی حکومت بنانے والے طالبان اپنے دعوو¿ں میں کس طرح پیچھے اور جھوٹے ثابت ہو رہے ہیں اس کی تازہ مثال منظر عام پر آ گئی ہے۔ دراصل طالبان حکومت خواتین کو ان کے حقوق دینے کا وعدہ کرکے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن اس کی دھوکہ دہی کا ایک سب سے بڑا ثبوت اس وقت سامنے آیا جب طالبان نے خواتین کی بنائی ہوئی وزارت میں ان کے ہی داخلے پر پابندی لگا دی۔خواتین کے معاملات کی وزارت منسٹری آف وومن افئیرکابل میں ہے اور اس میں صرف مرد ملازمین کو ہی جانے کی اجازت دی گئی ہے۔دارالحکومت کابل میں ملازمین نے جمعہ کو ملک کی خواتین کی وزارت کا نام تبدیل کر دیا۔

یہی نہیں سابقہ خواتین ملازمین نے بتایا کہ انہیں عمارت سے باہر کر دیا گیا۔ طالبان حکومت کے اعلان کے وقت اور اس کے بعد کئی بار ، ترجمانوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ خواتین کو کابینہ میں بھلے ہی جگہ نہیں دی گئی ہو ، لیکن وہ پہلے کی طرح وزارتوں میں کام کرتی رہیں گی ، حالانکہ انہیں لباس وہی پہننا پڑے گا۔ وہی کپڑے جو طالبان اپنی ہدایات دے گا۔خواتین کی وزارت میں خواتین ملازمین کے داخلے پر پابندی کا انکشاف روسی خبر رساں ایجنسی ا سپوتنک نے بھی کیا ہے۔ ایک رپورٹ میں ، ایجنسی نے بتایا کہ چار خاتون ملازمین جمعرات کو خواتین کی وزارت جانا چاہتی تھیں۔ ان کے پاس ان کے شناختی کارڈ بھی تھے اور وہ برقعے میں تھیں۔ اس کے باوجود انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اس وزارت میں صرف مرد ملازمین کو جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

رائٹرز کی طرف سے دیکھی گئی عمارت کے باہر فلمائی گئی ویڈیو کے مطابق ، خاتون ملازمین نے بتایا کہ وہ کئی ہفتوں سے کام پر آنے کی کوشش کر رہی تھیں لیکن انھیں گھر واپس چلے جانے کہا گیا۔ایک خاتون نے بتایا کہ جمعرات کو عمارت کے دروازے بند کر دیئے گئے تھے۔ ایک اور خاتون نے کہا ، میں اپنے خاندان میں اکلوتی کمائی کرنے والی ہوں۔جب کوئی وزارت نہیں ہے تو ایک افغان خاتون کو کیا کرنا چاہیئے؟ اس واقعے کے بعد خاتون ملازمین نے غصے کا اظہار کیا اور دو خواتین ملازمین نے وہاں موجود طالبان کے لوگوں کے سامنے احتجاج کیا۔ . بعد میں ان کے ساتھ بدتمیزی کی گئی اور اسے وہاں سے نکال دیا گیا ۔یاد رہے کہ اس سے پہلے ، جب 1996-2001 کے درمیان طالبان کا اقتدار تھا ، لڑکیوں کو ا سکول جانے کی اجازت نہیں تھی اور خواتین کو کام اور تعلیم پر پابندی لگادی گئی تھی۔ گزشتہ ماہ امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد افراتفری کے درمیان طالبان نے افغانستان کا کنٹرول سنبھال لیا۔

اس ہفتے کے شروع میں ، ایک سینئر طالبان رہنما نے کہا تھا کہ خواتین کو سرکاری وزارتوں میں مردوں کے ساتھ کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی ۔طالبان کی وزارت تعلیم نے 6 ویںسے ویں12 جماعت کے تمام مرد طلبا اور مرد اساتذہ سے کہا ہے کہ وہ ہفتے سے سکول شروع کریں۔ فیس بک پر شائع ہونے والے بیان میں اس عمر کی لڑکیوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا اور ہدایات کی اس کمی نے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے کہ طالبان دوبارہ لڑکیوں اور خواتین پر پابندیاں لگائیں گے۔ ماضی میں طالبان نے کلاس 1 سے 6 تک کی لڑکیوں کو سکول جانے کی اجازت دی تھی