IMF suspends its engagement with Afghanistan

واشنگٹن: افغانستان میں دہشت گردوں کی نئی حکومت قائم کرنے والے طالبان کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ایک کرارا دھچکا دیا ہے۔ آئی ایم ایف نے فی الحال افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ افغانستان کے ساتھ اس کے تعلقات اس وقت تک معطل رہیں گے جب تک کہ طالبان کی زیرقیادت حکومت کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ عالمی ادارے آئی ایم ایف نے کہا کہ وہ افغانستان کی معاشی صورتحال پر گہری تشویش کا شکار ہے اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ملک میں کسی بھی انسانی بحران کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔

آئی ایم ایف کے ترجمان گیری رائس نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ ہماری جڑاو¿ اس وقت تک ملتوی کر دیاگیا ہے جب تک حکومت کی جانب سے تسلیم کیے جانے کے بارے میں بین الاقوامی برادری کے اندر کوئی وضاحت نہیں ہو جاتی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں افغانستان میں حکومت کو تسلیم کرنے کے بارے میں عالمی برادری کی رہنمائی حاصل ہے اور ابھی ہمارے پاس کوئی وضاحت نہیں ہے۔ اس لئے ، وہاں آئی ایم ایف پروگرام کو روک دیا گیا ہے۔ ملک اس وقت آئی ایم ایف کے وسائل ، ایس ڈی آر وغیرہ تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔طالبان نے 15 اگست کو افغانستان پر قبضہ کر لیا۔ تب سے ملک میں حالات خراب ہیں اور تشدد کا دور چل رہا ہے۔

کئی عالمی رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ وہ دیکھیں گے کہ آیا وہ طالبان حکومت کو سفارتی شناخت دینے سے پہلے ایک جامع افغان حکومت اور انسانی حقوق جیسے مسائل پر اپنے وعدوں کو پورا کرتی ہے یا نہیں۔ روس ، چین ، پاکستان ، ایران اور ترکی جیسے ممالک نے آگے بڑھ کر طالبان کو موقع دینے کی بات کی ہے ، لیکن ابھی تک کسی بھی ملک نے سرکاری طور پر طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے نہیں کہا ہے۔