Resignations of three political and sports personalities Rupani, Amrinder and Kohli within a week send a wave of surprise

نئی دہلی : گذشتہ ایک ہفتے کے دوران سیاست سے کھیل کے میدان تک زبردست اتھل پتھل دیکھنے میں آئی جس سے سیاسی و کھیل حلقوں میں حیرت و استعجاب کی لہر دوڑ گئی ۔کیونکہ ابھی گجرات کے وزیر اعلیٰ وجے روپانی کے مستعفی ہونے کے اعلان کی گونج تھمی بھی نہیں تھی کہ دو کپتانوں نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ کیپٹن امریندر سنگھ نے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے عہدے سے باقاعہ استعفیٰ دے دیا تو کرکٹ کپتان وراٹ کوہلی نے کرکٹ کے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کے ساتھ ساتھ اپنی آئی پی ایل ٹیم رائل چیلنجرز بنگلور کی قیادت سے بھی دستبردار ہونے کے اپنے فیصلے کا اعلان کر دیا۔دونوں وزراءاعلیی نے تو اپنے استعفے متعلقہ ریاستی گورنروں کو سونپ دیے جبکہ کوہلی نے کہا کہ وہ ٹی 20ورلڈ کپ کے بعد ٹی ٹونٹی کی ٹیم کی کہپتانی اور آئی پی ایل کے رواں سیزن کے اختتام پر رائل چیلنجرز بنگلور کی قیادت چھوڑ دیں گے۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا انہوں نے ہفتہ کو گورنر سے ملاقات کی اور اپنا استعفی پیش کیا۔ امریندر سنگھ پچھلے ایک ہفتے میں مستعفی ہونے والے دوسرے وزیر اعلیٰ ہیں۔ اس سے قبل 11 ستمبر یعنی ہفتہ کو گجرات کے وزیر اعلیٰ وجے روپانی نے عہدہ چھوڑ دیا تھا۔ ملک ابھی گجرات کی سیاسی پیش رفت کو دیکھ ہی رہا تھا کہ 5 دن بعد یعنی جمعرات کو وراٹ کوہلی نے ٹی 20 فارمیٹ میں ٹیم انڈیا کی کپتانی چھوڑ نے کا اعلان کر کے سب کو حیران کر دیا۔ سیاست سے لے کر کھیلوں کی دنیا تک ، ان استعفوں سے سیاسی و کھیل حلقوں میں زلزلہ آگیا ۔ استعفوں کا سلسلہ وجے روپانی سے شروع ہوا۔ روپانی نے 11 ستمبر کو گجرات کے وزیر اعلی ٰکے عہدے سے استعفی دے کر بی جے پی میں ہلچل مچا دی تھی۔ روپانی نے اپنی دوسری میعاد مکمل کرنے سے صرف ایک سال قبل ہی استعفی دے دیا۔ روپانی دوسری مرتبہ وزیر اعلیٰ بنے اور اپنی مدت کا چوتھا سال مکمل کرنے سے تقریبا 3 ماہ دور تھے ، لیکن اچانک انہیں عہدے سے استعفی دینا پڑگیا۔ وجے روپانی اگست 2016 میں آنندی بین پٹیل کے استعفی کے بعد پہلی بار وزیر اعلیٰ بنے۔ پھر 2017 کے اسمبلی انتخابات میں فتح کے بعد بھی کمان روپانی کے پاس رہی۔ لیکن ساڑھے چار سال تک عہدے پر رہنے کے بعد اسے بھی چھوڑنا پڑا۔ اس طرح وہ کل 5 سال 35 دن وزیراعلیٰ کے عہدے پر رہے۔

اس کے بعد ٹیم انڈیا کے کپتان وراٹ کوہلی نے بھی وجئے روپانی کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے جمعرات (16 ستمبر)کو ٹی 20 فارمیٹ کی کپتانی سے استعفی دے کر سب کو حیران کردیا۔ کوہلی نے یہ معلومات اپنے سوشل میڈیا اکاو¿نٹ کے ذریعے دی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ ٹی 20 ورلڈ کپ تک ٹیم کے کپتان رہیں گے۔وراٹ کوہلی کو 2017 میں مہندر سنگھ دھونی کے بعد ٹی 20 کا کپتان بنایا گیا تھا۔ وہ 4 سال تک اس عہدے پر رہے۔ انہوں نے 45 ٹی 20 میں ٹیم انڈیا کی کپتانی کی ، جس میں سے انہوں نے 27 جیتے۔ وراٹ کوہلی نے بطور کپتان 45 میچوں میں 1502 رنز بنائے۔ ان کی اوسط 48.45 اور اسٹرائیک ریٹ 143.18 ہے۔ انہوں نے 12 نصف سنچریاں بنائیں اور سب سے زیادہ اسکور 94 (ناٹ آٹ) رہا۔بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی کے اعلان کے دو دن بعد پنجاب کے کیپٹن نے بھی اپنا عہدہ چھوڑ دیا۔

کیپٹن امریندر سنگھ نے ہفتہ کی شام کے آخر تک وزیراعلی ٰکے عہدے سے استعفی دے دیا۔ گورنر کو اپنا استعفی پیش کرنے کے بعد راج بھون کے باہر سے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کیپٹن نے کہا کہ گزشتہ کچھ دنوں میں یہ تیسرا موقع ہے . اس سے وہ ذلیل محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے صبح استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا تھا اور کانگرس صدر سونیا گاندھی کو بھی مطلع کیا تھا۔واضح ہو کہ پنجاب کانگرس میں پچھلے کچھ مہینوں سے ہنگامہ مچاہوا تھا۔ ریاستی صدر نوجوت سنگھ سدھو کا کیمپ امریندر سنگھ کے دھڑے پر حاوی ہونے کی کوشش کر رہا تھا اور آخر کار کامیابی مل گئی۔ اور اس طرح امریندر سنگھ ایک ہفتے کے اندر مستعفی ہونے والے تیسرے اہم اور تجربہ کار عہدیدار ہیں۔