Islamophobia has penetrated politics in West, Erdogan says

انقرہ:(اے یوایس) صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ اسلام دشمنی کا نظریہ قیام امن کی کوششوں شدید متاثر کر رہا ہے۔جنرل اسمبلی کے 76 ویں اجلاس میں شرکت کےلیے نیو یارک میں موجود صدر اردوغان نے ترک۔امریکن نظریاتی کمیٹی کی جانب سے منعقدہ”منصفانہ دنیا کا قیام ممکن ہے“کے زیر عنوان کانفرنس سے خطاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ انسانیت کو اس وقت کورونا کی وبا کے علاوہ ایک اور موذی مرض سے مقابلہ کرنا ہے جس کا نام اسلام دشمنی ہے،جمہوریت اور آزادی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے ممالک میں کئی سالوں سے یہ ناسورتیزی سے پھیل رہا ہے۔

اسلام دشمنی اور غیر ملکی نفرت نے سیاست کو اپنا غلام بنا لیا ہے،مسلمان کی عام زندگی اجیرن بن چکی ہے اور ریاستی پالیسیوں کا تعین کرنے میں شمار سماجی امن کی کوششیں اس وقت تباہ کن نظریات میں ڈھل چکی ہیں۔صدر نے کہا کہ متعدد مغربی معاشروں میں یہ ذہنیت داعش کے نظریات کی عکاسی کرتی ہے جہاں عقائد،مذاہب،نام اور لباس کی بنا پر مسلمانوں کے خلاف نفرت معمول کی بات بن چکی ہے بعض سماجی تنظیموں کے ذریعے اس نفرت اور اسلام دشمنی کو ختم کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں جو کہ قابل ستائش ہیں۔ہمیں اس سلسلے میں مزید اقدامات کرنا ہونگے،بطور ترکی ہم عالمی سطح کے ہر پلیٹ فارم پر اسلام دشمنی اور عدم مساوات کے خلاف اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

صدر نے کہا کہ امریکہ میں بسی ترک برداری ترک۔امریکن تعلقات میں مثبت کردار ادا کر رہی ہے بالخصوص ترک برداری کی قائم کردہ سماجی تنظیمیں ترک ثقافت اور تاریخی پس منظر کو متعارف کروانے میں پیش پیش ہیں۔ بعد ازں صدر نے امریکہ میں مسلم برادری کے نمائندوں سے ملاقات کی جو کہ بند کمرے میں ہوئی۔