Indians vaccinated with Covishield would still be required to undergo a pre-departure PCR test on landing in the UK

نئی دہلی:(اے یو ایس ) برطانیہ کے ذریعہ کورونا وائرس کے لیے کووی شیلڈ ویکسین کو منظوری نہ دیے جانے پر ہندوستان نے سخت اعتراض کرتے ہوئے اسے تعصب برتنے کی پالیسی سے تعبیر کیا۔برطانیہ سے اس معاملہ کو اٹھاتے ہوئے ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ کووی شیلڈ ویکسین کو منظوری نہ دینا تعصب پر مبنی پالیسی ہے۔ اور برطانیہ کا سفر کرنے والے ہمارے شہریوں کو متاثر کرتا ہے۔ خارجہ سکریٹری نے منگل کے روز اس کی اطلاع دیتے ہوئے بتایابرطانیہ نے اس معاملہ کو جلد حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ واضح ہو کہ برطانیہ سرکار پر ہندوسان سے آنے والے مسافروں پر اپنے کوویڈ 19 ٹیکے کے حوالے سے طے قواعد و ضوابط کا جائزہ لینے کا دباو بڑھ رہا ہے۔

اگلے مہینے سے لاگو ہونے والی نئی گائیڈلائنس کے مطابق مختلف ممالک کے ٹیکوں کو لے کر تفصیلی فہرست میں ہندوستانی ٹیکوں کو منظوری نہیں دی گئی ہے۔دراصل برطانیہ کے سفر سے متعلق فی الحال ریڈ ، ایمبر اور گرین رنگ کی تین الگ الگ فہرست بنائی گئی ہیں۔ خطرے کے مطابق الگ الگ ممالک کو الگ الگ فہرست میں رکھا گیا ہے۔ چار اکتوبر سے سبھی فہرستوں کو ایک کردیا جائے گا اور صرف ریڈ لسٹ باقی رہے گی۔ ریڈ لسٹ میں شامل ممالک کے مسافروں کو برطانیہ کا سفر کرنے پر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہندوستان اب بھی ایمبر فہرست میں ہے۔

ایسے میں ایمبر فہرست کو ختم کرنے کا مطلب ہے کہ صرف کچھ مسافروں کو ہی پی سی آر جانچ سے چھوٹ ملے گی۔ جن ممالک کے کورونا ٹیکوں کو برطانیہ میں منظوری ہوگی اس میںہندوستان شامل نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو ہندوستانی سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کا کووی شیلڈ ٹیکہ لگوا چکے ہیں انہیں لازمی طور پر پی سی آر جانچ کرانی ہوگی اور طے مقامات پر کورنٹائن کرناہوگا۔اس سے پہلے برطانیہ نے پیر کو کہا تھا کہ وہ ہندوستانی اتھارٹی کے ذریعہ جاری کوویڈ ٹیکہ کاری سرٹیفکیٹ کی منظوری کو توسیع دینے پر ہندوستان کے ساتھ گفتگو کررہا ہے۔ چار اکتوبر سے لاگو ہونے والی نئی گائیڈلائنس کو لے کر ہندوستان کی تشویشات کے بارے میں پوچھے جانے پر برطانوی ہائی کمیشن کے ترجمان نے کہا کہ برطانیہ اس معاملہ پر ہندوستان سے بات کررہا ہے۔