Senior Al Qaeda leader killed in drone strike in Syria: US

واشنگٹن: (اے یو ایس ) امریکہ نے افغانستان میں ڈرون حملے میں مبینہ دہشت گردوں کے بجائے عام افراد کی ہلاکت کے اعتراف کے کچھ روز بعد شام میں مبینہ طور پر القاعدہ کے اہم رہنما کو ہلاک کرنے کے لیے فضائی حملہ کیا ۔وائس آف امریکہ کے لیے جیف سیلڈن کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ شام کے شہر ادلب کے قریب ایک فضائی کارروائی میں دہشت گرد گروہ القاعدہ کے ایک رہنما کو نشانہ بنایا گیا ہے۔سینٹرل کمانڈ کی ترجمان لیفٹنینٹ جوسی لین لینی نے ایک بیان میں کہا کہ ‘ابتدائی امکانات یہی ہیں کہ ہم نے اسی فرد کو نشانہ بنایا جس کو ہدف بنانا تھا۔’ان کے بقول حملے کے نتیجے میں کسی عام شہری کی ہلاکت کے اشارے نہیں ملے۔

پینٹاگان حکام نے حملے کی تصدیق کی ہے البتہ اس بارے میں اضافی معلومات جاری نہیں کی گئیں۔دوسری جانب جہادی گروہ نے پیر کو سوشل میڈیا پر کی گئی پوسٹ میں کہا کہ حملے میں القاعدہ سے منسلک گروپ ’حراس الدین‘ کے دو جنگجو مارے گئے ہیں۔’سائٹ’ انٹیلی جنس گروپ کے مطابق شدت پسند گروہوں ان پوسٹس میں کہا گیا کہ امریکی حملے میں فوجی کمانڈر ابو حمزہ الیمینی ہلاک ہوا جب کہ مرنے والے دوسرے شخص کا نام ابو البرا التیونسی بتایا گیا ہے۔مبصرین کہتے ہیں کہ یہ حملہ رواں سال شام میں القاعدہ کے خلاف امریکہ کا پہلا باقاعدہ حملہ ہے۔

واشنگٹن میں قائم مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے چارلس لسٹر نے وی او اے کو بتایا کہ امریکہ کا شمال مغربی شام میں القاعدہ کے خلاف حملوں کا ایک متاثر کن ریکارڈ ہے۔ خاص طور پر 2019 کے وسط سے جب القاعدہ کی عالمی قیادت کے اراکین کو امریکی ڈرونز کے ذریعے نشانہ گیا تھا۔لسٹر کا کہنا تھا کہ حراس الدین پہلے ہی اپنے حریف حیات تحریر الشام کے حملوں کی زد میں تھا جس نے خود کو القاعدہ سے الگ کر لیا تھا اور اس کے رہنما کو روپوش کر دیا تھا۔شام میں پیر کو کیا جانے والا فضائی حملہ 29 اگست کے بعد سے امریکی سینٹرل کمانڈ کا پہلا اعلانیہ حملہ تھا۔

گزشتہ ماہ 29 اگست کو افغانستان کے دارالحکومت کابل میں امریکہ کے ڈرون حملے میں 10 شہری ہلاک ہوئے تھے جس میں امدادی رضاکار اور سات بچے شامل تھے۔فوجی حکام نے اس حملے کو ‘سنگین غلطی’ قرار دیتے ہوئے وضاحت کی تھی کہ انہوں نے ان خطروں کی نشاندہی کے بعد غلط ہدف کو نشانہ بنایا تھا اور ان دہشت گردوں کو ہلاک نہیں کیا تھا جو کابل ایئرپورٹ پر حملے کا ارادہ رکھتے تھے۔