Taliban nominates Suhail Shaheen as Afghan envoy to UN

کابل:(اے یو ایس )طالبان نے سہیل شاہین کو اقوام متحدہ میں اپنا سفیر نامزد کیا اورسیکریٹری جنرل سے اپیل کی کہ طالبان رہنماﺅں نے اقوام متحدہ میں بولنے کی اجازت دی جائے۔ مسٹر سہیل شاہین نے امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ میں بات چیت میں بہت اہم رول ادا کیا ۔ اور انہیں اعتدال پسند رہنماﺅں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ ان کی تقرری سے سابقہ حکومت کے نامزد کردہ سفیر غلام اسحق زئی کے درمیان نیا تنازع کھڑا ہوگیا ہے ۔

طالبان حکومت کی طرف سے ایک خط ملا جس میں انہیں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں انہیں شرکت
کرنے کی اجازت دی جا ئے گی ۔ خط میں مزید کہا گیا کہ اشرف غنی کی حکومت گرچکی ہے اور اس لئے ان کے نمائندے کو اجلاس میں بولنے کی اجازت نہ دی جائے ۔ ا ن کی جگہ سہیل شاہین کو نامزد کیا گیا ہے۔ طالبان نے کہا ہے کہ انھیں رواں ہفتے نیو یارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران عالمی رہنماؤں سے خطاب کرنے کا موقع دیا جائے۔طالبان حکومت کے وزیر خارجہ نے پیر کو ایک خط میں یہ درخواست کی۔ اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی اس درخواست پر فیصلہ کرے گی گذشتہ ماہ افغانستان پر قبضے کے بعد نظام سنبھالنے والے طالبان کا کہنا ہے کہ معزول حکومت کے ایلچی اب ملک کے نمائندہ نہیں ہیں۔

اقوام متحدہ کے ترجمان کے مطابق اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں حصہ لینے کی طالبان حکومت کی درخواست پر ایک کمیٹی غور کر رہی ہے جس کے نو ارکان میں امریکہ، چین اور روس شامل ہیں۔ تاہم آئندہ پیر کو جنرل اسمبلی کے اجلاس کے اختتام سے قبل تک اس کمیٹی کے ارکان کی ملاقات کا امکان نہیں ہے اور اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق اس وقت تک سابق افغان حکومت کے ایلچی غلام اسحق زئی ہی اقوام متحدہ میں افغانستان کی نمائندگی کریں گے۔واضح رہے کہ طالبان کے گذشتہ دور اقتدار کے دوران 1996 سے 2001 کے درمیان معزول حکومت کے سفیر ہی اقوام متحدہ میں ملک کے نمائندے کی حیثیت سے برقرار رہے تھے۔امکان ہے کہ وہ 27 ستمبر کو اجلاس کے آخری دن تقریر کریں گے۔ تاہم طالبان کا کہنا ہے کہ ان کا وفد اب افغانستان کی نمائندگی نہیں کرتا۔

طالبان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کئی ممالک اب سابق صدر اشرف غنی کو لیڈر تسلیم نہیں کرتے۔یاد رہے کہ سابق افغان صدر اشرف غنی 15 اگست کو دارالحکومت کابل پر طالبان عسکریت پسندوں کے قبضے کے بعد اچانک افغانستان سے چلے گئے تھے۔ انھوں نے متحدہ عرب امارات میں پناہ لے رکھی ہے ۔منگل کو اقوام متحدہ کے اجلاس میں قطر نے عالمی رہنماو¿ں پر زور دیا کہ وہ طالبان کے ساتھ تعلق قائم رکھیں۔ قطر کے حکمران شیخ تمیم بن حمد الثانی نے کہا کہ ان کا بائیکاٹ صرف تقسیم اور رد عمل کا باعث بنے گا جبکہ بات چیت نتیجہ خیز ثابت ہو سکتی ہے۔قطر افغانستان کے معاملے میں ایک اہم مصالحت کار کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ اس نے طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی تھی جن کے نتیجے میں 2020 میں امریکہ کی زیرقیادت ناٹو افواج کے انخلا کا معاہدے ہوا تھا۔قطر نے طالبان کے قبضے کے بعد سے افغان باشندوں اورغیر ملکی شہریوں کے انخلا میں مدد دی اور حالیہ بین الافغان امن مذاکرات میں سہولت فراہم کی ہے۔