Five killed in four blasts and firing in Jalalabad

کابل: بدھ کی صبح ننگر ہار صوبہ کا دارالخلافہ جلال آبا چار دھماکوں اور بندوق کی گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونج اٹھا ۔مختلف علاقوں میں ہونے والے ان چار دھماکوں اور فائرنگ کے واقعہ میں5افراد ہلاک اور تین دیگر زخمی ہوگئے۔

زخمیوں کو جلال آباد شہر کے ایک اسپتال میں داخل کر دیا گیا۔چاروں بم دھماکوں میں دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے ۔اسی دوران شہر میں بارڈر گارڈز بریگیڈ کے قریب بندوق برداروں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی جس میں کم از کم تین دیگر افراد ہلاک ہوگئے۔ان واقعات کی تصدیق کرتے ہوئے ننگرہار کے ڈائریکٹر انفارمیشن اینڈ کلچر نے کہا کہ تمام متاثرین عام شہری تھے اور طالبان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ صرف جلال آباد میں انگورباغ کے علاقے اور کابل مسافر بس ا سٹاپ پر دھماکوں میں دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ابھی تک کسی فرد یا گروہ نے جلال آباد میں بدھ کو ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

جبکہ داعش نے ننگرہار میں ہونے والے حالیہ حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔قبل ازیں اطلاعات و ثقافت کے نائب وزیر ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغانستان میں داعش کی موجودگی ملکی استحکام کے لیے خطرہ نہیں ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ طالبان فورسز میں داعش پر قابو پانے کی صلاحیت ہے۔