Formation of Palestinian state is the only solution to end conflict with Israel : Biden tells UN

ِٰٓواشنگٹن:(اے یو ایس ) امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ اسرائیل کے مستقبل کو یقینی بنانے کا ’بہترین طریقہ‘ ایک خودمختار اور جمہوری فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے ”اے ایف پی“ کے مطابق صدر بائیڈن نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76 اجلاس سے خطاب میںکہا کہ ’اسرائیل کی سلامتی کے لیے امریکی عزم پر کوئی شبہ نہیں ہے۔‘انہوں نے کہا: ’لیکن مجھے یقین ہے کہ دو ریاستی حل ایک یہودی جمہوری ریاست کے طور پر اسرائیل کے مستقبل کو یقینی بنانے کا ایک بہترین طریقہ ہے جہاں ایک قابل عمل، خودمختار اور جمہوری فلسطینی ریاست کے ساتھ پر امن طریقے سے رہا جائے۔‘امریکی صدر نے کہا کہ ’ہم اس وقت ا±س مقصد سے بہت دور ہیں لیکن ہمیں اپنے آپ کو کبھی بھی ترقی کے امکانات سے دستبردار نہیں ہونے دینا چاہیے۔‘یہ پہلا موقع نہیں ہے جب امریکی صدر جو بائیڈن نے خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی بات کی ہو۔ اس سے قبل 21 مئی 2021 کو بھی وہ یہ بات کر چکے ہیں۔برطانوی خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ امریکہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے کوششوں کو منظم شکل دینے میں مدد کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ تنازعے کا ’واحد حل‘ اسرائیل کے ساتھ فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔صدر بائیڈن نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے اسرائیل سے کہا ہے وہ بیت المقدس کے حساس مقام پر ’برادریوں کے درمیان‘ لڑائی بند کرے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ ’ان کے اسرائیل کی سلامتی سے متعلق عہد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔انہوں نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا کیونکہ وہ واضح طور پر اسرائیل نواز تھی جس میں فلسطینیوں کو نظر انداز کر دیا گیا تھا۔ اب امریکی صدر نے ایک بار پھر بین الاقوامی فورم پر اپنی بات کا اعادہ کیا ہے جسے اب زیادہ اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔گذشتہ برس جنوری میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعے کے حل کے لیے امن منصوبہ پیش کیا تھا جو ان کے بقول ’ڈیل آف دی سنچری‘ تھا۔امریکی خبر رساں ادارے ”اے پی“ کے مطابق انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کا یہ منصوبہ نہ صرف اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دائمی امن کی بنیاد رکھے گا بلکہ اس سے فلسطینیوں کو معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ امن اور ترقی بھی نصیب ہو گی۔

بائیڈن نے فوری طور پر درپیش عالمی چیلنجوں کا بھی خاص طور پر ذکر کیا اور ان سے نمٹنے اور ان کا حل تلاش کرنے کے لیے مل کر کام کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس بات کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے کبھی نہیں تھی۔اس ضمن میں صدر نے کووڈ 19 کی عالمی وبا اور آب و ہوا کی تبدیلی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے علاوہ دہشت گردی کے انسداد کے لیے مو¿ثر اقدامات جاری رکھنے، عسکری کارروائیوں کی بجائے سفارت کاری کو اولیت دینے کا ذکر کیا۔ساتھ ہی انھوں نے عالمی سطح پر غربت کے خاتمے کے لیے امریکہ کی جانب سے 10 ارب ڈالر کی اعانت کا اعلان کیا۔ انھوں نے کہا کہ بہتر مستقبل کی تعمیر کو اولیت دی جانی چاہیے، جس کے لیے مل کر کوششیں کرنا ہوگی۔ خطاب کے دوران بائیڈن نے کہا کہ ”ہماری سیکیورٹی، ہماری خوشحالی اور ہماری آزادی سبھی کا انحصار باہمی اشتراکِ عمل سے جڑا ہوا ہے”۔انھوں نے اس بات کی جانب توجہ مبذول کرائی کہ ”بین الاقوامی فورمز میں، خاص طور پر اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں، امریکہ پھر سے سرگرم عمل ہو گیا ہے۔” یہ موقف ان کے پیش رو ڈونلڈ ٹرمپ کے نظریے ‘امریکہ فرسٹ’ کے برعکس ہے۔عسکری طاقت کے معاملے پر بائیڈن نے کہا کہ امریکی فوجی طاقت کا استعمال ہماری جانب سے پہلا نہیں بلکہ آخری اقدام ہونا چاہیے، اور یہ دنیا بھر میں درپیش ہر مسئلے کا پہلا نہیں بلکہ آخری طریقہ کار ہونا چاہیے۔

بائیڈن نے افغانستان سے 20 سال بعد فوج کے انخلا کے متنازع فیصلے کا ذکر کیا، جس کا مقصد ان کی انتظامیہ کی جانب سے اب اصل مخالف، چین پر دھیان مرکوز کرنا ہے۔اتوار کے روز اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے امریکہ اور چین پر زور دیا کہ وہ ممکنہ سرد جنگ کی جانب نہ بڑھیں، بلکہ اس بات پر زور دیا کہ دونوں ملک ”مکمل طور پر غیر فعال تعلقات” میں بہتری لانے کی جانب دھیان دیں۔وائٹ ہاو¿س کی پریس سیکرٹری، جین ساکی نے پیر کے روز کہا کہ ”میں تعلقات کے معاملے پر اس قسم کی اصطلاح کے استعمال کے حق میں نہیں ہوں”۔ انھوں نے مزید کہا کہ بائیڈن اور ان کے چینی ہم منصب نے گزشتہ ہفتے ہی ٹیلی فون رابطے کے دوران 90 منٹ تک گفتگو کی، جو ”غیر رسمی نوعیت کی بات چیت تھی، لیکن یقینی طور پر اس کا اتنا تذکرہ نہیں کیا گیا۔عالمی ادارے کے مجموعی طور پر 193 ارکان ہیں، اور اقوام متحدہ کی اسمبلی کا یہ سالانہ اجلاس ہے جس میں علاقائی اور عالمی اہمیت کے حامل چیلنجوں سے متعلق معاملوں پر بحث کی جاتی ہے ۔