Process of Selling properties of Nawaz Sharif begins

اسلام آباد:(اے یو ایس ) ایون فیلڈ کیس میں نواز شریف کی ، جو تین باروزیراعظم رہے ہیں، جائےدادیں ضبط کر کے انہیں فروخت کر دینے کے لیے قومی احتساب کمیشن کا حکم جاری ہوتے ہی عدالتی فیصلہ پر عمل درآمدکرنے کے لئے ڈپٹی کمشنر کو مراسلہ بھیج دیا گیا جس کے بعد قومی احتساب بیورو نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹ کیس میں ایک ارب 85 کروڑ روپے کا جرمانہ وصول کرنے کے لیے شریف کی جائیدادیں فوری طور پر فروخت کر کے قانونی تقاضے پورے کرنے کا آغاز کردیا۔

علاوہ ازیں نواز شریف سے جرمانے کی 8ملین پاﺅنڈ رقم کی وصولی کی بھی کارروائی شروع کی گئی ہے۔ میڈیا کے ایک رپورٹ کے مطابق نیب لاہور کے ڈائریکٹر جنرل شہزاد سلیم نے مسلم لیگ (ن) کے قائد کی جائیدادوں کی فہرست لاہور اور شیخوپورہ کے ڈپٹی کمشنرز کو ارسال کر کے انہیں فوری طور پر فروخت کرنے کی ہدایت کی۔انسداد بدعنوانی کے ادارے نے ایک پریس ریلیز میں اسے کرپشن کیس میں سابق وزیراعظم سے بڑی بر آمدگی اور ریکوریز کے معاملے پر سیاسی حلقوں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا ردِ عمل قرار دیا۔دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے دعویٰ کیا کہ کارروائی قبل از وقت کی گئی ہے کیونکہ معاملہ زیر سماعت ہے۔یاد رہے کہ نواز شریف کو ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کیس میں ایک ارب 85 کروڑ روپے جرمانے اور 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔اس کیس میں شریک ملزم مریم نواز کو 7 سال قید اور 20 لاکھ پاؤنڈ جرمانے جبکہ ان کے شوہر ریٹائرڈ کیپٹن محمد صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، دونوں مجرمان کی اپیل اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔بیورو کا دعویٰ ہے کہ نواز شریف کی اسی طرح کی اسلام آباد ہائی کورٹ نے 23 جون کو مفرور ہونے کی وجہ سے مسترد کر دی تھی۔

مذکورہ اپیلیں اسلام آباد کی احتساب عدالت میں 6 جولائی 2018 کو دائر کی گئی تھیں۔ بیورو کے ایک عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ نواز شریف نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے اپیل مسترد ہونے کے بعد مقررہ مدت کے اندر سپریم کورٹ سے رجوع نہیں کیا اس لیے بیورو کی جانب سے جرمانے کی رقم کی وصولیابی کے لیے مجرم کی جائیداد فروخت کرنے کی کارروائیں شروع کرنا تکنیکی لحاظ سے قانونی ہے۔نواز شریف کی معلوم جائیدادوں میں موضع مانک لاہور میں 940 کنال کی زرعی اراضی، بدھوکی ساہنی میں 299 کنال کی زرعی اراضی، مو ضع دی مال میں 103 کنال، موضع سلطان کی میں 312 کنال، شیخوپورہ کے موضع منڈیالا میں 14 کنال کی زرعی اراضی اور اپر مال لاہور میں ایم بنگلہ (نمبر 135) شامل ہے۔ بیورو نے ڈپٹی کمشنرز کو لکھے گئے خط میں فروخت شدہ املاک کی آمدنی کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے استعمال کرنے کے لیے قومی خزانے میں جمع کرانے کی بھی ہدایت کی گئی۔اس میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اگر مذکورہ جائیدادوں سے جرمانہ کی مکمل رقم واپس نہیں ملتی تو نواز شریف کی مزید جائیدادوں کا پتا لگانے کے لیے نئی تلاش شروع کی جائے گی۔مسلم لیگ (ن) کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ یہ قدم اٹھالیا گیا ہے جبکہ یہ معاملہ ابھی تک حتمی نتیجے تک نہیں پہنچا بلکہ زیر سماعت ہے۔

ایک بیان میں انہوں نے نواز شریف کے خلاف بیورو کی پریس ریلیز کو ’ بیورو کے چیئرمین کی جانب سے مدت ملازمت میں توسیع کے لیے مایوس کن درخواست قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ قابل اعتراض ویڈیو پر ججز کو بلیک میل کر کے حاصل کردہ ’داغدار‘ فیصلے اور اسلام آباد کے ایک وٹل میں ججز کو ’رشوت‘ دے کر ملنے والے فیصلے کے تحت نواز شریف کے اثاثے جرمانہ وصولی کے بہانے سے غصب کیے جارہے ہیں۔سابق وزیر اطلاعات نے کہا کہ 35 سالہ سیاسی کیریئر کے دوران نواز شریف نے دو مرتبہ وزیر اعلیٰ اور تین مرتبہ وزیر اعظم کی حیثیت سے خدمات انجام دیں لیکن ان کے خلاف عوامی پیسے کے غبن کا ایک پیسہ بھی ثابت نہیں ہوا۔مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ بیورو کی یہ پریس ریلیز کسی ادارے کی طرف سے جاری کردہ دستاویز نہیں بلکہ عمران خان کی جانب سے سیاسی انتقام کا ایک ذریعہ ہے جو ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ شیطانی سیاسی انتقامی مہم چلا رہے ہیں۔