Sanctions are ‘US way of war’, Iranian President at UN

تہران:(اے یو ایس )ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے امریکی انتظامیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف برسرجنگ ہے۔ تاہم ساتھ ہی رئیسی نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ امریکی پابندیوں کے اٹھائے جانے کی خاطر ان کا ملک جوہری پروگرام کے حوالے سے مغربی ممالک کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے پہلے خطاب میں رئیسی نے اس بات کو خارج از امکان قرار دیا کہ مغربی ممالک اور امریکا کے ساتھ مذاکرات میں میزائلوں یا مزاحمت کے محور کے لیے ایران کی سپورٹ کے موضوعات زیر بحث آئیں۔ تہران کی جانب سے حمایت یافتہ علاقائی ملیشیاو¿ں کو ایران “مزاحمت کے محور” کا نام دیتا ہے۔ رئیسی نے جنرل اسمبلی سے یہ خطاب تہران میں ریکارڈ شدہ ایک وڈیو کے ذریعے کیا۔

ایرانی صدر کے مطابق پابندیوں کا عائد کرنا یہ امریکا کا اپنے مخالف ممالک کے خلاف جنگ کا نیا طریقہ ہے۔رئیسی نے مشرق وسطیٰ میں امریکی موجودگی کو ، جس کا مقصد فلسطین و شام سے یمن اور افغانستان تک کے ستم رسیدہ لوگوں کے لیے ضرر رساں ہے، عقلیت سے عاری قرار دیا۔صدر رئیسی نے مزید کہا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 2018میں عائد کی گئیں پابندیاں جرم کے مماثل ہیں۔