US, Russian military chiefs meet in Helsinki for six hours

واشنگٹن:(اے یو ایس ) امریکا اور روس کے فوجی سربراہوں نے بدھ کے روز فن لینڈ کے دارالحکومت ہیلسنکی میں ایک ایسے وقت میں ملاقات کی جب امریکا القاعدہ کو افغانستان میں دوبارہ سر اٹھانے سے روکنے کے لیے افغانستان کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔امریکی چیف آف اسٹاف کے ترجمان کرنل ڈیو بٹلر کے مطابق 2019 کے بعد جنرل مارک ملی اوران کے روسی ہم منصب ویلری گیراسیموف کے درمیان یہ ملاقات اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ ہے۔جس کا مقصد دونوں ممالک کی عسکری قیادت کے درمیان رابطے بہتر بنانا ، خطرات اور تنازعات کو کم کرنے کے لیے بات چیت جاری رکھنا ہے۔

بٹلر نے مذاکرات کے مندرجات کی وضاحت نہیں کی لیکن وہ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی فوج افغانستان کے پڑوسی ممالک میں اڈے قائم کرنا چاہتی ہے تاکہ وہ امریکی مفادات کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کے خوف سے افغانستان میں مسلح گروہوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھ سکے۔افغانستان سے غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا کے اعلان کے دوران امریکی صدر جو بائیڈن نے زور دیا تھا کہ واشنگٹن القاعدہ یا داعش کی واپسی سے بچنے کے لیےتمام وسائل استعمال کرے گا۔

امریکا نے 2000 کی دہائی کے اوائل میں افغانسان کے کئی پڑوسی ممالک خاص طورپر ازبکستان ، تاجکستان اور کرغیزستان میں فوجی اڈے قائم کر رکھے تھے۔ افغانستان کی سرحدیں وسطی ایشیا کے ان چھ ممالک کےساتھ ملتی ہیں اور امریکا نے ان ممالک کے اڈوں کو افغانستان میں اپنی عسکری کارروائیوں کے لیے استعمال کرنا تھا۔ان وسطی ایشیائی ممالک میں روس کے فوجی اڈے بھی موجود ہیں جو ان ملکوں پر اپنی اجارہ داری سمجھتا ہے۔