Afghan businessmen face export problems in trade with Pakistan

کابل: افغان وزارت تجارت اور سرمایہ کاری (اے سی سی آئی) نے کہا ہے کہ پاکستانی کراسنگ پوائنٹس پر افغان برآمد کاروں کو ایک بار پھر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ پاکستان یومیہ صرف20افغان ٹرکوں کی اجازت دے رہا ہے جبکہ پاکستان کے روزانہ120ٹرک کسی مشکل کے بغیر افغانستان میں داخل ہو رہے ہیں۔ پاکستان افغانستان مشترکہ وزارت تجارت و صنعت کے سربراہ خان جان الوکوزئی نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے دشواری پیدا کیے جانے کے باعث سیکڑوں ٹرک کراسنگ پوائنٹس پر پھنسے کھڑے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ موجودہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کے ساتھ تجارتی اور راہداری کا مسئلہ حل کرے ورنہ اس کا پاکستان کو افغانستان کی برآمدات پر منفی اثر پڑے گا۔

الوکوزئی نے کہا کہ یہ ایک بہت ہی سنگین مسئلہ ہے اور ہم نے اسے کئی بار پاکستانی حکام کے ساتھ شیئر کیا ہے لیکن یہ اب تک حل نہیں ہوا ہے۔صوبہ ننگرہار کے متعدد تاجر بھی اس صورتحال کے بارے میں شکایت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پچھلے 20 سالوں میں مختلف حکومتیں پاکستان کے ساتھ اپنا مسئلہ حل نہیں کر سکیں۔ان کا کہنا ہے کہ سینکڑوں ٹرک اب ملک کے پھلوں اور سبزیوں کے ساتھ سرحد پر کھڑے ہیں۔

صوبہ ننگرہار کے ایک تاجر زلمی عظیمی نے کہا کہ سرحد کے اس طرف روزانہ 260 گاڑیاں رکتی ہیں اور ہفتے میں کئی ہزار گاڑیاں آتی ہیں۔ وزارت اطلاعات و ثقافت کے ثقافتی کمیشن کے رکن ، انعام اللہ سمنگانی نے کہا کہ وزارت تجارت اور خارجہ امور کے حکام کو پاکستانی حکام سے اس بارے میں بات کرنی چاہیے اور اس مسئلے کو حل کرنا چاہیے۔دریں اثنا ، وزارت خارجہ نے پہلے پاکستان کی طرف سے افغان سامان کی فروخت پر ٹیکس میں چھوٹ کا اعلان کیا ہے۔ لیکن چیمبر آف کامرس اینڈ انویسٹمنٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے افغانستان کی برآمدات پر اس کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی پر ٹیکس لگایا تھا اور اسے ہٹانا اچھی بات ہوگی۔