UN General Assembly's 76th session end without Afghanistan and myanmar's representative's address

جنیوا: (اے یوایس) نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا76واں اجلاس پیر کے روز افغانستان اور میانمار کے رہنماؤں کے خطاب کے بغیر اختتام پذیر ہو گیا۔پیر کو جنرل اسمبلی کے اجلاس کے آخری دن اقوام متحدہ میں افغانستان، میانمار اور گنی کے نمائندوں نے خطاب کرنا تھا۔

طالبان نے اقوام متحدہ میں سابق حکومت کی جانب سے نامزد کردہ مندوب غلام اسحاق زئی کو خظاب کرنے سے روکنے اور اپنے وزیر خارجہ امیر خان متقی کو دعوت دینے کے لیے خط لکھا تھا لیکن بقول اقوام متحدہ کے عہدیدار طالبان کی درخواست تاخیر سے ملی جس پر متعلقہ کمیٹی کا فیصلے کرنے کے لیے اجلاس نہ ہو سکا۔ اس کمیٹی میں امریکہ، روس اور چین بھی شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطح کے عہدیدار نے بتایا کہ امریکہ، روس اور چین کے درمیان ‘ایک معاہدے’ پر اتفاق کیا گیا جس کے تحت میانمار کے نمائندے کو جنرل اسمبلی میں خطاب سے روکنے کا فیصلہ ہوا۔میانمار کے اقوام متحدہ میں نمائندے جمہوریت کے حامی ہیں اور انہوں نے ملک میں فوجی بغاوت کے بعد نئے حکمرانوں کی جانب سے عہدہ چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔

رواں سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کے خدشات کے دوران منعقد ہوا ہے جس میں سو سے زائد ملکوں کے رہنما و¿ں نے شرکت کی ۔طالبان نے اقوام متحدہ کو بھیجے گئے خط میں سابق حکومت کے نمائندے غلام اسحاق زئی کے بارے میں لکھا تھا کہ وہ اب افغانستان کی نمائندگی نہیں کرتے۔ تاہم طالبان کی حکومت تسلیم کیے جانے تک اشرف غنی حکومت کے مندوب کو ہی اقوام متحدہ افغانستان کا نمائندہ قرار دیتی ہے۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس کا اختتام افغانستان، میانمار اور گنی کے نمائندوں کے خطاب سے ہونا تھا جہاں حال ہی میں حکومتیں تبدیل ہوئی ہیں۔