Collapse of Afghan security forces was not abrupt but slow, painful: Report

واشنگٹن: افغانستان پر طالبان کے قبضہ کے ڈیڑھ ماہ بعد ایک رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ افغان سلامتی دستوں نے راتوں نے رات یا اچانک ہی ہتھیار نہیں ڈالے تھے یا اچانک ہی وہ پسپا نہیں ہوئے تھے بلکہ 15اگست کو کابل پر طالبان کے مکمل کنٹرول حاصل ہوجانے سے مہینوں پہلے ہی انہوں نے خود کو ہر طرح سے بے یارو مددگار پانے اور کوئی تازہ کمک کے نہ پہنچنے کے باعث بڑے حسرت و یاس کے عالم میں شکست تسلیم کرنا شروع کر دی تھی۔

دی واشنگٹن پوسٹ کی نئی رپورٹ سے علم ہوا ہے کہ طالبان نے موسم بہار میں اپنے حملے کرنا شروع کر دیے تھے ۔اور جیسے جیسے امریکی فوج کی تعداد میں تیزی سے کمی آنا شروع ہوئی افغانستان کے خصوصی آپریٹرز کو وزارت دفاع کی کمان کے تحت منتقل کر دیا گیا۔دی پوسٹ کو ایک کیپٹن نے بتایا کہ اس تبدیلی سے فوجوں کی آزادی کافی حد تک سلب ہو گئی جس کے باعث وہ دغا باز ہو گئے اور ان کی اس بدعنوانی کی وجہ سے سلامتی دستوں کی دیگر شاخیں بھی بے اختیار اور اپاہج ہو گئیں۔

ملک کے سب سے زیادہ جیالے اور نہایت تربیت یافتہ لڑاکوں کو نہ امریکی فضائی مدد مل رہی تھی اور نہ ہی انہیں مشاہرہ مل رہا تھا لیکن پھر بھی انہیں دفاعی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں کیونکہ طالبان صوبائی دارالحکومتوں کے قریب تر پہنچتے جارہے تھے۔

جنگ شدت ٓکتیار کرتی گئی اور متعدد افغان پولس اہلکار جنہیں گذشتہ چھ ماہ سے تنخواہ کے نام ہپر ایک دھیلہ تک نہیں ملا تھامحاذ پر تعینات کر دیے گئے۔ یہ خالی جیبیں اور خالی پیٹ اس پر ملک کے دفاع کی ذمہ داری او ردوسری جانب ان سرکاری فوجیوں اور پولس اہلکاروں کے کنبوں کی کسمپرسی ایک بڑی پریشانی بن گئی جس سے سرکاری فوجوں اور پولس عملہ کے حوصلے پست ہو گئے اور طالبان کی پیش کشیں ان کی کمزوری بن گیں۔اور طالبان کی تجاویز انہیں لبھانے لگی اور وہ طالبان کے سو¿راستے سے خود بخود ہٹتے چلے گئے۔