Kanhaiya Kumar explain reason of his joining congress party

نئی دہلی: (اے یو ایس ) طلبہ رہنما کنہیا کمار اور گجرات کے دلت لیڈر جگنیش میوانی نے منگل کو کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ پارٹی میں شامل ہونے کے بعد کنہیا نے کہا ہم شہید اعظم بھگت سنگھ کو سجدہ کرتے ہیں۔ میرے خیال میں زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انفارمیشن انقلاب کے اس دور میں ہر کوئی پہلے ہی بہت کچھ جانتا ہے۔

انہوں نے کہامیں کانگریس پارٹی میں شامل ہو رہا ہوں کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ اس ملک میں کچھ لوگ صرف لوگ نہیں ہیں بلکہ وہ ایک سوچ ہیں۔ انہوں نے نہ صرف اقتدار پر قبضہ کیا ہے بلکہ اس ملک کے حال اور مستقبل کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں کانگریس میں شامل ہونا چاہتا ہوں کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ اگر کانگریس زندہ نہیں رہی تو ملک نہیں بچے گا۔میں کانگریس میں شامل ہو رہا ہوں کیونکہ یہ صرف ایک پارٹی نہیں ہے یہ ایک آئیڈیل ہے۔ یہ ملک کی سب سے پرانی اور جمہوری پارٹی ہے اور میں ‘جمہوری’ پر زور دے رہا ہوں نہ صرف میں بلکہ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کانگریس کے بغیر نہیں رہ سکتا۔

کنہیا نے کہا مجھے یقین ہے کہ آج اس ملک کو بھگت سنگھ کی ہمت ، امبیڈکر کی مساوات اور گاندھی کے اتحاد کی ضرورت ہے۔ میرے خیال میں یہ ملک 1947 سے پہلے کی ریاست میں چلا گیا ہے۔ جب بستی میں آگ لگتی ہے تو کسی کو سونے کے کمرے کی فکر نہیں کرنی چاہیے۔ آج اس ملک میں اقتدار پر سوال اٹھانے کی روایت کو بچانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کانگریس پارٹی وہ پارٹی ہے جو مہاتما گاندھی، امبیڈکر ، بھگت سنگھ کے اصولوں کو آگے لے کر جائے گی۔ صرف کانگریس پارٹی ہی ہندوستانی ہونے کی تاریخ رکھتی ہے۔ اگر اپوزیشن کمزور ہے تو حکومت خود مختار ہو جاتی ہے۔ جو پارٹی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ہے اگر اسے نہ بچایا گیا اگر بڑا جہاز نہ بچا تو چھوٹی کشتیاں نہیں بچیں گی۔ صرف کانگریس ہی اس نظریاتی جدوجہد کو سمت دے سکتی ہے جو ملک میں پھوٹ پڑی ہے۔ جب آپ لڑائی میں ہوں تو جو دستیاب ہے اس سے مقابلہ کرنے کی کوشش کریں۔

کنہیا کمار نے 2019 کے لوک سبھا انتخابات سے عین قبل کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) میں شمولیت اختیار کی تھی ، اور بہار میں اپنے آبائی شہر بیگوسرائے سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے گری راج سنگھ کے خلاف الیکشن لڑا تھا ، لیکن جیت نہیں سکا۔میوانی نے کہا کہ وہ 2022کا گجرات اسمبلی الیکشن کانگریس انتخابی نشان کے ساتھ لڑیں گے لیکن فی الحال وہ اس لیے کانگریس میں باقاعدہ شامل نہیں ہو سکتے کیونکہ اس سے ان پر دل بدلی قانون نافذ ہوجائے گا اور وہ ایم ایل اے کے طور پر نااہل قرار دے دیے جائیں گے۔