US Senate Bill Sparks Islamic Emirate Reaction

کابل: اسلامی امارات افغانستان اور اس کے حمایتی ممالک پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے امریکی سینیٹ میں حال ہی میں پیش کیے گئے بل پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے افغان وزارت داخلہ نے کہا کہ جنگ زدہ ملک کے خلاف کسی بھی قسم کی پابندیاں افغانستان میں امریکہ کی ناکام پالیسیوں کی داستان دوہرائیں گی۔ امارت اسلامیہ کے حکام افغان حکومت پر مجوزہ پابندیوں کو افغانستان میں ناکام امریکی جبر کی تکرار سمجھتے ہیں اور امریکہ سے بات چیت کے ذریعے کسی معاہدے تک پہنچنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

وزارت داخلہ کے پریس آفیسر قاری سعید خوستی نے کہا کہ انہوں نے پچھلے بیس سال کے تجربے سے ایک اچھا سبق سیکھا ہوگا۔ انہوں نے بیس سال تک کوشش کی لیکن تہی دست رہے اور آخر کار ہاتھ ملتے افغانستان سے فرار میں ہی عافیت جانی اور راتوں رات بوریہ بسترا سمیٹ کر افغانستان چھوڑ گئے ۔ افغانی دنیا کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ امارت اسلامیہ کے حکام نے امریکہ اور اقوام متحدہ سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ ا ن کے رہنماو¿ں کے نام اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے نکال دیں اور اقوام متحدہ میں ان کے نمائندوں کو قبول کریں۔۔ دوسری جانب پاکستان نے امریکی سینیٹرز کی تجویز کے جواب میں کہا ہے کہ اس نے طالبان کو کوئی فوجی مدد فراہم نہیں کی ہے اور انہیں صرف امریکہ کی درخواست پر مذاکرات کی میز پر لایا ہے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ ہم نے طالبان کے لیے کسی قسم کی فوجی مدد نہیں کی ہے ، لیکن امریکہ اپنے پاکستان مخالف الزامات کو دہرا رہا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری طالبان کے ساتھ بات چیت کرے تاکہ ہم افغانستان میں امن اور سلامتی کو یقینی بنا سکیں۔سیاسی تجزیہ کار حکمت اللہ حکمت نے کہا کہ افغانستان کے قومی مفادات اور عام لوگوں کو نقصان پہنچانے والی کوئی بھی پابندیاں عائد نہیں کی جانی چاہئیں اور لوگ چاہتے ہیں کہ ٹی ٹی پی عالمی برادری کے ساتھ مشترکہ پالیسی اپنائے ۔

واضح ہو کہ امریکی سینیٹرز نے سنیٹ کی خارجہ امور کمیٹی سات نکاتی بل پیش کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ طالبان اور اس کے اتحادیوں بالخصوص پاکستان پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔ایک سینئر رکن جم ریش نے کہا کہ امریکہ کو طالبان کے کسی رکن کو امریکہ یا اقوام متحدہ میں افغانستان کا سفیر نہیں ماننا چاہیے کیونکہ ان پر ہمیشہ افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا ہے۔ سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی ا مریکی سینیٹرز کی جانب سے تجویز کردہ مسودے میں پاکستان کو امارت اسلامیہ کا حامی بتایا گیا ہے اور امریکی وزیر خارجہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ 2001 سے 2020 تک ان کی حمایت میں پاکستان کے کردار پر جس کے باعث افغانستان میں عوامی مینڈیٹ سے قائم اشرف غنی حکومت گری کے ساتھ ساتھ وادی پنجشیر اور افغان مزاحمت کے خلاف طالبان کی پاکستان کی جانب سے مدد بہم پہنچائے جانے کے بارے میں رپورٹ پیش کرے ۔